القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 50

۵۰ وَ مَا قُلْتُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي تَجَاسُرًا بَلِ الْآنَ نَبَّانِي الْعَلِيمُ الْمُقَدِّرُ اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے جرات سے نہیں کہہ دی۔ بلکہ ابھی مجھے خدائے علیم (اور ) مالک تقدیر نے خبر دی ہے۔ فَبَلَّغْتُ تَبْلِيعًا وَ الَّيْتُ حِلْفَةً عَلَى صِدْقِ مَا أَظْهَرْتُ فَانْظُرُ وَ نَنظُرُ پس میں نے تو تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے اور قسم بھی کھالی ہے اسبات کی سچائی پر جسکا میں نے اظہار کیا ہے۔ سو تو انتظار کر اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ فَإِنْ أَكُ صِدِّيقًا فَرَبِّى يُعِزُّنِي وَإِنْ اَكُ كَذَّابًا فَسَوْفَ مُحَقَّرُ سواگر میں سچا ہوں تو میرا رب مجھے عزت دے گا اور اگر میں جھوٹا ہوں تو ضرور بے عزت کیا جاؤں گا۔ وَ أَعْلَمُ أَنَّ مُهَيْمِنِى لَا يُضِيعُنِي وَأَعْلَمُ أَنَّ مُؤَيِّدِى سَوْفَ يَنْصُرُ اور میں جانتا ہوں کہ میر انگہبان خدا مجھے ضائع نہیں کریگا اور میں جانتا ہوں کہ میری تائید کر نیوالا (خدا) ضرور مدد کریگا۔ فَتَوَقَدَ السُّفَهَاءُ مِنْ أَهْلِ الْهَوَى وَكُلُّ امْرِءٍ عِنْدَ التَخَاصُمِ يُسْبَرُ سو ہوائے نفس رکھنے والے بیوقوف بھڑک اٹھے۔ اور ہر شخص بحث کے وقت آزمایا جاتا ہے۔ ذَوُوا فِطْنَةٍ يَدْرُونَ بَحْثِى وَ بَحْثَهُ وَمَا فِي السَّمَاءِ فَسَوْفَ يَبْدُو وَ يَظْهَرُ عقلمند لوگ میری اور اس کی بحث کو سمجھتے ہیں اور جو آسمان میں مقدر ہے وہ جلد ہی ظاہر ہو گا اور سامنے آ جائے گا۔ وَ إِنْ يُسْلِمَنْ يَسْلَمُ وَ۔ وَإِلَّا فَمَيِّتٌ وَهَذَانِ مِنَّا آيَتَانِ وَنَشْكُرُ اگر وہ مسلمان ہو جائے گا تو بچ جائے گا اور نہ مرے گا اور یہ ہماری طرف سے دونشان ہیں اور ہم ( خدا کا شکر کرتے ہیں۔ وَ وَاللَّهِ هَذَا مِنْ الهِي وَمَنْ يَعِشُ إِلى أَشْهُرٍ مَّذْكُورَةٍ فَسَيَنْظُرُ اور خدا کی قسم ! یہ بات میرے خدا کی طرف سے ہے مذکورہ مہینوں تک ۔ سو وہ ضرور دیکھ لے گا۔ وَ تَحْتَ رِدَاءِ اللَّهِ رُوحِي وَمُهْجَتِي وَمَا يَعْرِفُنِي أَحَدٌ وَ رَبِّي يُبْصِرُ اور میری روح اور میری جان تو اللہ کی چادر کے نیچے ہے اور مجھے کوئی نہیں پہچانتا اور میرا رب دیکھ رہا ہے۔ وَ لَسْتُ بِرَبِّي كَاذِبًا تَارِكَ الْهُدَى وَ لَسْتُ بِرَبِّي كَالَّذِي هُوَ يَهْذَرُ میرے رب کی قسم میں جھوٹا اور ہدایت کو ترک کر نیوالا نہیں اور میرے رب کی قسم میں اس شخص کی طرح نہیں جو بیہودہ گوئی کرتا ہے۔