القصائد الاحمدیہ — Page 49
۴۹ وَ فِيكَ فَسَادٌ لَوْ عَلِمْتَ اجْتَنَبْتَهُ وَ ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُغْوِى وَ يَحْصُرُ اور تجھ میں ایک خرابی ہے اگر تجھے اسکا علم ہوتا تو تو اس سے پر ہیز کرتا اور یہ شیطان ہی ہے جو تمہیں گمراہ کر رہا ہے اور روک رہا ہے۔ ذَبَبْتُ عَنِ الدِّينِ الْحَنِيفِى شُكُو كَكُمْ وَ اَزْعَجْتُ أَصْلَ أُصُولِكُمْ ثُمَّ تُنْكِرُ میں نے دین حنیفی کے متعلق تمہارے شکوک دُور کر دیئے ہیں اور تمہارے اصول کی جڑ کو کھاڑ دیا ہے۔ پھر بھی تو انکار کر رہا ہے۔ وَ قُلْتُمْ لَنَا دِينٌ بَعِيدٌ مِّنَ النُّهَى وَهَذَا فَسَادٌ ظَاهِرٌ لَيْسَ يُسْتَرُ اور تم نے کہہ دیا ہمارا دین تو عقل میں نہیں آ سکتا اور یہ تو ایک واضح خلل ہے جو چھپ نہیں سکتا۔ وَكُلُّ امْرِءٍ بِالْعَقْلِ يَفْهَمُ أَمْرَهُ كَمَا بِالْعُيُونِ يُشَاهِدَنَّ وَ يُبْصِرُ اور ہر آدمی تو عقل سے ہی اپنا معاملہ سمجھا کرتا ہے جیسا کہ وہ آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے اور دیکھتا ہے۔ وَ عَقْلُ الْفَتَى نِصْفٌ وَّ نِصْفٌ حَوَاسُهُ وَ كَصَفُقِ أَيْدٍ مِّنْهُمَا الْعِلْمُ يَظْهَرُ اور آدھی تو انسان کی عقل ہے اور آدھے اسکے حواس ہیں اور (بیچ کے وجوب کیلئے ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی طرح ان دونوں سے علم الیقین صادر ہوتا ہے۔ تَصَدَّيْتَ فِي نَصْرِ الضَّلَالِ تَعَمُّدًا فَبَارِزُ لِحَرْبِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ تو عمداً گمراہی کی مدد کے درپے ہوا۔ سو اللہ سے جنگ کے لئے میدان میں آجا اگر تجھے قدرت ہے۔ وَمَا أَنْتَ إِلَّا عَابِدَ الْحِرْصِ وَالْهَوَى تُشَمِّرُ ذَيْلَكَ لِلْحُطَامِ وَ تَهْجُرُ اور تو تو صرف حرص و ہوا کا پجاری ہے تو سامان دنیا کے لئے کمر بستہ ہے اور بکواس کر رہا ہے۔ رَأَيْتُ لَكَ الرُّؤْيَا وَ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَ إِنَّ كَلَامَ اللَّهِ لَا تَتَغَيَّرُ میں نے تیرے متعلق ایک خواب دیکھی ہے اور یقینا تو مرنے والا ہے اور بے شک خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔ وَ عِدَّةُ وَعْدِ اللَّهِ عَشْرٌ وَخَمْسَةٌ إِذَا مَا انْقَضَتْ فَاعْلَمُ بِأَنَّكَ مُحْضَرُ اور خدا کے وعدے کی مدت پندرہ (مہینے ) ہے جب یہ مدت گزر جائے گی تو جان لینا کہ تو پیش کیا جانے والا ہے۔ وَ تَعْمَى وَ تُحْضَرُ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مُجْرِمًا وَ تُسْأَلُ عَمَّا كُنْتَ تَهْذِى وَ تَكْفُرُ اور تو اندھا ہوگا اور مجرم کی صورت میں عرش والے کے سامنے حاضر کیا جائیگا اور تجھ سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جائیگا جو تو بکتا رہا ہے اور جوتو انکار کرتا رہا ہے۔