القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 46

۴۶ وَ قُلْتُ لَهُ لَمَّا اَبَى إِنَّ شَأْنَنَا بَلَاغُ فَبَلَّغْنَا وَ إِنَّكَ مُنْذَرُ جب اس نے انکار کیا تو میں نے اس سے کہا کہ ہمارا کام تو پہنچا دینا ہے سو ہم اچھی طرح پہنچا چکے اور بے شک تو انذار کیا جا چکا ہے۔ وَ إِنْ كُنْتَ لَمْ تَسْمَعُ فَزِدْ فِي تَجَاسُرٍ لِتُسْعِرَ نَارَ اللَّهِ ثُمَّ تُدَمِّرُ اور اگر تو سن ( یعنی جان نہیں رہا تو دلیری میں بڑھتا کہ تو اللہ تعالیٰ کی آگ کو بھڑ کا دیوے پھر ہلاک کر دیا جاوے۔ فَزِدْ فِي جَرَاءَاتٍ وَزِدْ فِي تَقَاعُسٍ وَزِدْ فِي عَمَايَاتٍ فَتَفْنَى وَ تُبْتَرُ پس تو ترقی کر جراتوں میں اور بڑھتا جا کج روی میں اور اندھے پن میں بڑھتا جاسوتو فنا کیا جائیگا اور کاٹا جائیگا۔ وَ لَيْسَ عَذَابُ اللَّهِ عَذَّبًا كَمَا تَرَى سَيُحْرَقُ فِي نَارِ اللَّظى مَنْ يَفْجُرُ اور خدا کا عذاب میٹھا نہیں جیسا کہ تو خیال کر رہا ہے۔ دیکھتی ہوئی آگ میں جلایا جائیگا وہ شخص جو گناہ کرتا ہے۔ غَيُورٌ فَيَأْخُذُ مُشْرِكَا بِذُنُوبِهِ وَلَيْسَ لَهُ أَحَدٌ شَفِيعًا وَ مَازَرُ وہ غیرت مند ہے۔ مشرک کو اس کے گناہوں کے عوض پکڑلے گا۔ اور اس کے لئے کوئی شفیع نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی پناہ ۔ رَفِيعٌ عَلِيٌّ كَيْفَ يُدْرَكُ كُنْهُهُ إِذَا مَا تَرَقَّتْ عَيْنُنَا تَتَحَيَّرُ وہ بلند ہے برتر ہے اس کی گئہ کیسے دریافت ہو سکتی ہے؟ جتنا بھی ہماری آنکھ بلند ہوتی ہے حیران رہ جاتی ہے۔ اَ تَعْصُونَ بَغْيًا مَنْ بِهِ الْخَلْقُ امَنُوا اَتَنْسَوْنَ يَوْمًا مَّا بِهِ النَّاسُ انْذِرُوا کیا تم سرکشی سے نافرمانی کرتے ہو اس ذات کی جس پر مخلوق ایمان لے آئی ؟ کیا تم اس دن کو بھلاتے ہو جس سے سب لوگ ڈرائے گئے؟ وَ كَيْفَ يَكُونُ الْعَبْدُ كَابْنِ لِرَبِّهِ فَسُبْحَانَ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا تَصَوَّرُوا اور ایک بندہ اپنے رب کیلئے ایک بیٹے کی طرح کیسے ہو سکتا ہے۔ رب العرش اس عیب سے پاک ہے جسکا انہوں نے تصور کیا ہے۔ وَ قَدْ مَاتَ عِيسَى لَيْسَ حَيًّا وَ إِنَّنَا نَرُدُّ عَلى مَنْ قَالَ حَيٌّ وَ نَحْجُرُ اور عیسی مر چکا ہے اور زندہ نہیں اور یقیناً ہم اسکی تردید کرتے ہیں جس نے کہا کہ وہ زندہ ہے اور (اس بات سے ) منع کرتے ہیں۔ وَ أَخْبَرَنِي رَبِّي بِمَوْتِ مَسِيحِكُمْ وَكَانَ هُوَ الْأَوْلَى وَ اكْفَى وَ أَجْدَرُ اور تمہارے مسیح کی موت کے بارہ میں میرے رب نے مجھے خبر دی ہے اور (اس خبر دینے میں ) وہی اولی اور اکفی اور زیادہ حقدار ہے۔