القصائد الاحمدیہ — Page 377
٣٧٧ ولد حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب عربی زبان کو رواج دینے کی طرف توجہ جہ تھی تو ان الہام میں حضور نے آپ کو عربی فقرات لکھوائے تھے اور یہ شعر بھی یاد کرنے کو دیئے تھے۔ اطِعُ رَبَّكَ الْجَبَّارَ أَهْلَ الْأَوَامِرِ وَ خَفْ قَهْرَهُ وَ اتْرُكُ طَرِيقَ التَّجَاسُرِ اپنے جبار اور صاحب حکم رب کی اطاعت کر اور اس کے قہر سے ڈر اور دلیری کا طریقہ چھوڑ دے۔ وَ كَيْفَ عَلَى النَّارِ النَّهَابِرِ تَصْبِرُ وَاَنْتَ تَأَذَّى عِنْدَ حَرِّ الْهَوَاجِرِ اور تو دوزخ کی آگ پر کس طرح صبر کرے گا حالانکہ تجھے تو دو پہر کی گرمی سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ وَ وَاللَّهِ إِنَّ الْفِسْقَ صِلٌ مُدَمِّرٌ كَمَلْمَسِ أَفْعَى نَاعِمٌ فِي النَّوَاظِرِ اور خدا کی قسم بدکاری ایک ہلاک کرنے والا سانپ ہے جو سانپ کی کھال کی طرح دیکھنے میں اچھی معلم ہوتی ہے۔ فَلَا تَخْتَرُو الطَّعُوى فَإِنَّ الْهَنَا غَيُّورٌ عَلَى حُرُمَاتِهِ غَيْرُ قَاصِرٍ پس سرکشی نہ اختیار کرو کیونکہ ہمارا خدا بڑا غیرتمند ہے اور اپنی حرام کی ہوئی چیزوں کے کرنے الے کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑے گا وَلَا تَقْعُدَنُ يَابْنَ الْكِرَامِ بِمُفْسِدِ فَتَرْجِعُ مَنْ حَبَّ الشَّرِيرَ كَخَاسِرِ اور اے بزرگوں کے بیٹے تو شریروں کے پاس نہ بیٹھا کر کیونکہ تو شریروں سے محبت کر کے نقصان ہی اٹھائے گا۔ وَلَا تَحْسَبَنُ ذَنْبًا صَغِيرًا كَهَيْنِ فَإِنَّ وِدَادَ الذَّنْبِ إِحْدَى الْكَبَائِرِ اور چھوٹے گناہ کو ہلکا نہ سمجھ کیونکہ چھوٹے گناہوں کو پسند رکھنا خود ایک کبیرہ گناہ ہے۔ وَاخِرُ نُصْحِي تَوْبَةٌ ثُمَّ تَوْبَةٌ وَمَوْتُ الْفَتَى خَيْرٌ لَّهُ مِنْ مَّنَاكِرِ اور میری آخری نصیحت یہ ہے کہ توبہ کر اور پھر توبہ کر اور ایک جوان کا مر جانا اس کے گناہ کرنے سے اچھا ہے۔ (سيرة المهدی حصہ سوم ۔ روایت نمبر ۹۴۷)