القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 28

۲۸ كَادَتْ تُعَفِّيُنِي ضَلَا لَاتُ فَادْرَكَنِي الْهُدَى قریب تھا کہ گمراہیاں مجھے مٹا دیتیں پر ہدایت نے مجھے پالیا۔ يَا صَاحٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ اَعُــطــــى لَنَا هَذَا جَدَا اے ساتھی ! بے شک اللہ (تعالی) نے ہمیں یہ عطیہ بخش دیا ہے۔ هُوَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ الَّتِى تُعْطِي نَعِيمًا مُّخْلَدَا وہ ایسی لیلۃ القدر ہے جو دائمی نعمت عطا کرتی ہے۔ ا تَجُولُ فِي حَوْمَاتِ نَفْسِكَ تَارِكا سُنَنَ الْهُدَى کیا تو ! (اے مخاطب) اپنے نفس کے میدانوں میں ہدایت کے طریقوں کو چھوڑ کر گھوم رہا ہے؟ هَلَّا انْتَهَجْتَ مَحَجَّةَ الْأَحْيَاءِ يَا صَيدَ الرَّدَا تو کیوں زندوں کے طریق کار پر گامزن نہ ہوا ؟ اے ہلاکت کے شکار ! يَامَنُ غَدًا لِلْمُؤْمِنِينَ اَشَدُّ بُغْضًا كَالْعِدًا اے وہ شخص جو مومنوں کے لئے دشمنوں کی طرح شدید ترین بغض رکھنے والا ہو گیا ہے! اختــــــــــت لـــــذه هـذِهِ وَنَسِيتَ مَـــــايــعُــطـــى غـدا تو نے اس دنیا کی لذت کو اختیار کر لیا اور جو گل ملے گا اسے بھلا دیا ہے۔ يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ قَدْ هَلَكُتَ تَجَلُّدَا اے حقیر دنیا کے طالب ! تو گناہوں پر دلیری کی وجہ سے ہلاک ہو گیا ہے۔ عادَيْتَ اَهْلَ وَلَايَةٍ وَقَفَوْتَ اثَارَ الْعِدَا تو نے (اللہ سے ) دوستی کرنے والوں سے دشمنی کی اور دشمنوں کے نشانِ قدم پر چلا ہے۔ الْيَوْمَ تُكْفِرُنِي وَتَحْسَبُنِي شَقِـــــــــــا مُّلْحِدًا آج تو مجھے کافر کہتا ہے اور مجھے بد بخت اور بے دین خیال کرتا ہے۔