القصائد الاحمدیہ — Page 364
۳۶۴ اتَتُنِي أُمُورٌ مِنْكَ قَدْ شَقَّ وَقُعُهَا عَلَيَّ وَلَا كَالسَّيْفِ بَلْ هِيَ أَبْهَرُ بعض باتیں تیری میرے تک پہنچی ہیں جو میرے پر بہت گراں گزریں نہ تلوار کی طرح بلکہ کاٹنے میں اس سے بھی زیادہ۔ وَمَا كَانَ لِي أَنْ أَتْرُكَ الْحَقَّ خِيفَةً أَنَا الْمُنْذِرُ الْعُرْيَانُ لِلَّهِ انْذِرُ اور میں وہ نہیں ہوں کہ جو حق کو ڈر کر چھوڑ دوں میں ایک برہنہ طور پر ڈرانے والا ہوں اور محض خدا کے لئے ڈراتا ہوں ۔ وَإِنْ كُنْتَ تُزْرِينَا فَنَبْغِي لَكَ الْهُدَى صَبَرْنَا وَإِنْ تُغْرِى الْعِدَا أَوْ تُهَتِّرُ اور اگر تو ہماری عیب جوئی کرتا ہے تو ہم تیرے لئے ہدایت چاہتے ہیں اور ہم صبر کرتے ہیں اگر چہ تو دشمنوں کو ہم پر اکسا دے یا ہماری بے آبروئی کرے۔ وَإِنْ كُنْتَ مِنِّي تَشْتَكِي فِي مَقَالَةٍ فَمَا هُوَ الَّا دُونَ سَيْفِ تُشَهِّرُ اور اگر تو مجھ سے کسی کلام کے بارے میں رنجیدہ ہے تو وہ اس تلوار سے کمتر ہے جو تو کھینچ رہا ہے۔ فَلَا تَجْزَعَنُ مِنْ كَلِمَةٍ قُلْتَ ضِعْفَهَا وَإِنَّكَ لِلايُذَاءِ بِالسُّوءِ تَجْهَرُ پس ایسے کلمہ سے جزع مت کر جو اس سے دو چند تو کہہ چکا ہے اور تو ایزا کے لئے کھلے کھلے طور پر ستاتا ہے۔ أضِيفَ إِلَيْنَا مِنْ عَمَايَاتِ قَوْمِنَا فَسَادٌ وَكُفُرٌ وَافْتِرَاءٌ مُجَعْثَرُ ہماری طرف قوم کی نابینائی سے منسوب کیا گیا، فساد اور کفر اور افتر اجو اکٹھا کیا گیا تھا۔ كَانَّا جَعَلْنَا عَادَةً كُلَّ لَيْلَةٍ نُرَقِّعُ ثَوْبَ الْاِفْتِرَاءِ وَنَنْشُرُ گویا کہ ہم نے یہ عادت کر رکھی ہے کہ ہر ایک رات افتراء کا کپڑا پیوند کرتے ہیں اور پھر اس کو پھیلا دیتے ہیں اور شہرت دیدیتے ہیں۔ صَبَرْنَا عَلَى إِبْذَاءِ هِمْ وَعُوَاعِهِمْ وَكُلُّ خَفِي فِي الْعَوَاقِبِ يَظْهَرُ ہم نے ان کے ایذاء اور بکواس پر صبر کیا اور ہر ایک پوشیدہ امر انجام کار ظاہر ہو جاتا ہے۔ عَجِبْتُ لَاعْدَائِي يَصُولُونَ كُلُّهُمْ وَلَوْ كَانَ مِنْهُمْ جَاهِلٌ أَوْ مُزَوِّرُ مجھے دشمنوں سے تعجب آتا ہے کہ سب میرے پر حملہ کر رہے ہیں اگر چہ ان میں سے کوئی جاہل ہو یا دروغ کو آراستہ کر نیوالا ہو۔ وَهَلْ يَصْقِلُ الْإِيْمَانَ أَوْ يَكْشِفُ الْعَمَى أَقَاوِيلُ قَوْمٍ لَيْسَ مَعَهُمْ تَطَهَّرُ اور کیا ایمان کو صیقل کر سکتے ہیں یا نا بینائی کو دور کر سکتے ہیں ایسی قوم کے اقوال جن کے ساتھ پاکیزگی نہیں۔