القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 25

الْقَصِيدَةُ الْأُولَى فِي نَعْتِ رَسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں پہلا قصیدہ يَا قَلْبِي اذْكُرُ اَحْمَدًا عَيْنَ الْهُدَى مُفْنِي الْعِدَا اے میرے دل ! احمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر جو ہدایت کا سر چشمہ اور دشمنوں کو فنا کرنے والا ۔ بَرًا كَرِيمًا مُّحْسِنًا بَحْرَ الْعَطَايَا وَالْجَدَا نیک، کریم، محسن ، بخششوں اور سخاوت کا سمندر ہے۔ بَدْرٌ مُّنِيرٌ زَاهِرٌ فِي كُلِّ وَصْفِ حُمِّدًا وہ چودھویں کا نورانی روشن چاند ہے۔ وہ ہر وصف میں تعریف کیا گیا ہے۔ إِحْسَانُهُ يُصْبِى الْقُلُوبَ وَحُسْنُهُ يُروى الصَّدَا اس کا احسان دلوں کو موہ لیتا ہے اور اس کا حسن پیاس کو بجھا دیتا ہے۔ الظَّالِمُونَ بِظُلْمِهِمْ قَدْ كَذَّبُوهُ تَمَرُّدَا ظالموں نے اپنے ظلم کی وجہ سے اسے سرکشی سے جھٹلایا ہے۔ وَ الْحَقُّ لَا يَسَعُ الْوَرَى اِنْكَارَهُ لَمَّا بَدَا اور سچائی ایسی تھے ہے کہ مخلوق اس کا انکار نہیں کر سکتی جب وہ ظاہر ہو جائے۔ اطْلُبُ نَظِيرَ كَمَالِهِ فَسَتَنْدَ مَنَّ مُلَدَّدًا تو اُس کے کمال کی نظیر تلاش کر سوتو (اس میں ) یقیناً حیران ہو کر شرمندہ ہوگا۔