القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 304

لله ولد L دَعَوْهُ لِيَبْتَهِلَنُ لِمَوْتِ مُزَوِّرٍ مُّضِلَّ فَلَمْ يَسْكُتُ وَلَمْ يَتَحَسَّرُ اُس کو بلایا کہ جھوٹے کی موت کے لئے خدا کی جناب میں تضرع کرے۔ وہ جھوٹا جو گمراہ کرتا ہے، پس شاء اللہ اپنے شور سے چپ نہ ہوا اور نہ تھکا۔ وَ كَذَّبَ اعْجَازَ الْمَسِيحِ وِأيَهُ وَغَلَّطَهُ كِذَّبًا وَ كَانَ يُزَوِّرُ اور کتاب اعجاز مسیح جو میری کتاب ہے اس کی اُس نے تکذیب کی اور اس کے نشانِ فصاحت کی تکذیب کی اور جھوٹ کی راہ سے اُس کو غلط ٹھہرایا اور جھوٹ بولا ۔ وَقِيلَ لِإِمْلَاءِ الْكِتَابِ كَمِثْلِهِ فَقَالَ كَاهْلِ الْعُجْبِ إِنَّي سَاسْطُرُ پس اس کو کہا گیا کہ اعجاز مسیح کی طرح کوئی کتاب لکھ۔ پس اس نے خود نمائی سے کہا کہ میں لکھوں گا۔ وَ انْكَرَ آيَاتِي وَاَنْكَرَ دَعْوَتِي وَاَنْكَرَ الْهَامِي وَقَالَ مُزَوِّرُ اور میرے نشانوں سے انکار کیا اور میری دعوت سے انکار کیا۔ اور میرے الہام سے انکار کیا اور کہا کہ ایک جھوٹا آدمی ہے۔ وَ كَذَّبَنِي بِالْبُخْلِ مِنْ كُلِّ صُورَةٍ وَخَطَّانِي فِي كُلِّ وَعْظِ أُذَكِّرُ اور اُس نے ہر ایک صورت سے مجھے کا ذب ٹھہرایا۔ اور ہر ایک وعظ میں، جو میں نے کیا مجھے خطا کی طرف منسوب کیا۔ فَأَفْرِدْتُ إِفْرَادَ الْحُسَيْنِ بِكَرْبَلَا وَ فِي الْحَيِّ صِرْنَا مِثْلَ مَنْ كَانَ يُقْبَرُ پس اُس جگہ میں اکیلا رہ گیا جیسا کہ حسین ارض کربلا میں اور اس قوم میں ہم ایسے ہو گئے جیسا کہ مردہ دفن کیا جاتا ہے۔ تَصَدَّى لِانْكَارِی وَ إِنْكَارِ أَيَتِی وَ كَانَ لِحِقْدٍ كَالْعَقَارِبِ يَأْبُرُ میرے انکار اور میرے نشانوں کے انکار کیلئے پیش آیا۔ اور وہ کینہ سے کژدم کی طرح نیش زنی کرتا تھا۔ فَقَدْ سَرَّنِي فِي هَذِهِ الصُّوَرِ صُورَةٌ لِيَدْفَعَ رَبِّي كُلَّمَا كَانَ يَحْشُرُ پس ان صورتوں میں مجھے ایک طریق اچھا معلوم ہوا۔ تا میرا خدا اس طوفان کو دور کر دے جو اُس نے اٹھایا ہے۔ فَأَلَّفْتُ هَذَا النَّظْمَ اَعْنِي قَصِيدَتِي لِيُخْزِيَ رَبِّي كُلَّ مَنْ كَانَ يَهْذِرُ پس میں نے یہ نظم یعنی یہ قصیدہ اپنا تالیف کیا۔ تا میرا خدا اُن لوگوں کو رسوا کرے جو بکواس کرتے ہیں۔ وَهَذَا عَلَى إِصْرَارِهِ فِي سُؤَالِهِ فَكَيْفَ بِهَذَا السُّبُلِ اغْضِي وَأَنْهَرُ اور یہ قصیدہ اس کے اصرار مقابلہ پر بنایا گیا ہے۔ پس میں باوجود اس قد رسوال کے کیونکر چشم پوشی کروں اور کیونکر سائل کو جھڑک دوں ۔ ے ایسا اس وقت کہا جب ثناء اللہ کو تکذیب میں انتہا تک دیکھا اور ایسی لاف زنی کرتے اس کو مشاہدہ بھی کر لیا۔ منہ هَذَا الشِّعُرُ مِنْ وَحْيِ اللَّهِ تَعَالَى جَلَّ شَانُهُ -