القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 303

۳۰۳ هُنَاكَ دَعَوْا رَبًّا كَرِيمًا مُؤَيّدًا وَقَالُوا حَلَلْنَا أَرْضَ رُجُرٍ فَنَصْبِرُ تب انہوں نے خدا کی جناب میں دُعائیں کیں اور کہا کہ ہم پلید زمین میں داخل ہو گئے پس ہم صبر کرتے ہیں۔ فَمَا بَرِحُوْهَا وَالرِّمَاحُ تَنُوشُهُمْ وَلَا طَعْنَ رُمْحٍ مِثْلَ طَعْنٍ يُكَرَّرُ پس وہ اس زمین سے الگ نہ ہوئے اور نیزے ان کو خستہ کر رہے تھے اور کوئی نیزہ اس طعنہ کی طرح نہیں جو بار بار کہا جاتا ہے۔ وَقَامَ ثَنَاءُ اللَّهِ فِي الْقَوْمِ وَاعِظًا فَصَارُوا بِوَعْظِ الْغُولِ قَوْمًا تَنَمَّرُوا اور ثناء اللہ نے قوم میں وعظ کیا۔ پس ایک غول کے وعظ سے وہ پلنگ کی طرح ہو گئے ۔ وَذَكَرَهُمْ صَحْبِى مُكَافَاتَ كُفْرِهِمْ وَهَلْ يَنْفَعَنُ أَهْلَ الْهَوَى مَا يُذَكَّرُ میرے دوستوں نے پاداش انکار یاد دلایا۔ مگر بھلا ہوا پرستوں کو کوئی وعظ فائدہ دے سکتا ہے؟ تَجَنَّى عَلَى أَبُو الْوَفَاءِ ابْنُ الْهَوَى لِيُبْعِدَ حَمُقَى مِنْ جَنَايَ وَيَزْجُرُ ثناء اللہ نے میرے پر نکتہ چینی شروع کی، جو ہوا و ہوس کا بیٹا تھا۔ تا احمقوں کو میرے پھل سے محروم رکھے۔ وَخَاطَبَ مَنْ وَّافَاهُ فِي أَمْرِ دَعْوَتِي وَقَالَ يَمِينُ اللَّهِ مَكْرٌ تَخَيَّرُوا اور ہر ایک جو اس کے پاس آیا اس کو اس نے مخاطب کیا۔ اور کہا کہ خدا کی قسم ! یہ تو ایک مکر ہے جو اختیار کیا گیا۔ وَ أَقْسَمَ بِاللَّهِ الْغَيُورِ مُكَذِّبًا فَيَا عَجَبًا مِّنْ مُّفْسِدٍ كَيْفَ يَجْسُرُ اور اُس نے خدائے غیور کی قسم کھائی ۔ پس تعجب ہے مفسد سے۔ کیسی دلیری کر رہا ہے۔ فَطَائِفَةٌ قَدْ كَفَرُونِي بِوَعْظِهِ وَطَائِفَةٌ قَالُوا كَذُوبٌ يُزَوِّرُ پس ایک گروہ نے اس کے وعظ سے مجھے کافر ٹھہرایا۔ اور ایک گروہ نے کہا کہ یہ شخص جھوٹ بیان کر رہا ہے۔ وَمَا مَسَّهُ نُورٌ مِّنَ الْعِلْمِ وَالْهُدَى فَيَا عَجَبًا مِّنْ بَقَةٍ يَسْتَنْسِرُ حالانکہ ثناء اللہ و علم اور ہدایت سے ذرہ میں نہیں ۔ پس تعجب ہے اس مچھر پر کہ کرگس بننا چاہتا ہے۔ فَلَمَّا اعْتَدَى وَأَحَسَّ صَحْبِى أَنَّهُ يُصِرُّ عَلَى تَكْذِيبِهِ لَا يُقَصِّرُ پس جب وہ حد سے بڑھ گیا اور میرے دوستوں نے معلوم کیا۔ کہ وہ تکذیب پر اصرار کر رہا ہے اور باز نہیں آتا۔