القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 285

۲۸۵ فَلَيْتَ عُقُولَ الزُّمُرِ قَبْلَ افْتِضَاحِهَا يَصِلُنَ إِلَى حَقٌّ مُبِينٍ مُحَقَّقِ پس کاش کہ مخالف جماعتوں کی عقلیں ان کی رسوائی سے پہلے کھلے کھلے حق کو پالیں ۔ وَمَا أَنَا إِلَّا مُنْذِرٌ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَقَدْ جِئْتُ مِنْ رَبِّي كَرَاعٍ مُعَفِّقِ اور میں فتنہ کے وقت ایک منذر ہو کر آیا ہوں اور میں اپنے رب کی طرف سے ایسا چرواہا ہوں جو بکریوں پر ا گندہ کو اپنی طرف لاتا ہے۔ وَلِي قِرْبَةٌ شُدَّ عَلَى عِصَامُهَا لِأُرْوِيَ أَقْوَامًا بِمَاءٍ أَغْدَقِ اور میری ایک مشک ہے جس کا بند میرے پر مضبوط کیا گیا ہے تا کہ میں قوموں کو بہت سے پانی سے سیراب کروں ۔ فَمَنْ يَأْتِنِي صِدْقًا كَعَطْشَانَ سَاعِيًا يَجِدْ كَاهِلِي هَذَا ذَلُولًا لِمُسْتَقِى پس جو شخص صدق کے ساتھ پیاسے کی طرح دوڑتا ہوا میرے پاس آئیگا میرے اس موہنڈے کو پانی کے طلب کر نیوالے کیلئے جھکا ہوا پائیگا۔ فَقُمْ شَاهِدًا لِلَّهِ إِنْ كُنْتَ خَاشِعًا وَأَكْرَمُ نَاسٍ عِنْدَهُ فَاتِكَ تَقِى پس اگر تو خدا کیلئے خشوع رکھتا ہے تو اللہ گواہی کیلئے کھڑا ہو جا اور خدا کے نزدیک بزرگ آدمی وہی ہے جو د لیر اور نیک بخت ہے۔ وَقَدْ كُنتُ لِلَّهِ الَّذِي كَانَ مَلْجَأَى وَ ذَلِكَ سِرٌّ بَيْنَ رُوحِي وَمَزْعَقِى اور میں اس خدا کیلئے ہو گیا جو میری پناہ ہے اور یہ بھید ہے مجھ میں اور میری فریادگاہ میں ۔ رأَيْتُ وُجُوهَا ثُمَّ ثَرْتُ وَجْهَهُ فَوَاهَا لَهُ وَلِوَجْهِهِ الْمُتَأَلِقِ میں نے کئی منہ دیکھے پس اس کا منہ اختیار کر لیا۔ پس کیا اچھا وہ ہے اور کیا اچھا ہے اس کا منہ چمکنے والا ۔ أُحِبُّ بِرُوحِي فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَإِنِّي لَأَوَّلُ مَنْ نَوَى كُلَّ مُلْزَقِ میں اپنی جان کے ساتھ اسکو دوست رکھتا ہوں جو دانہ اس کے جرم سے علیحدہ کر نیوالا ہے اورمیں وہ پہلا شخص ہوں جس نے ہر ایک پیوستہ کو پھینک دیا ہے۔ وَلِلَّهِ أَسْرَارٌ بِعَاشِقِ وَجْهِهِ فَسَلُ مَنْ يُشَاهِدُ بَعْضَ هَذَا التَّعَلُّقِ اور خدا کو اسکے عاشق کے ساتھ بھید ہیں پس اس شخص سے پوچھ جو اس تعلق کو دیکھنے والا ہے۔ لِحِبِّي خَوَاصٌ فِي الْوِصَالِ وَفُرْقَةٍ فَفِي الْقُرْبِ يُحْيِينِي وَ فِي الْبُعْدِ يُوبِقِ میرے دوست کیلئے وصال اور جدائی میں خواص ہیں پس وہ قرب میں زندہ کرتا ہے اور دوری میں ہلاک کرتا ہے۔