القصائد الاحمدیہ — Page 273
۲۷۳ وَمَهُمَا يَكُنْ حَقٌّ مِنَ اللَّهِ وَاضِحًا وَإِنْ رَدَّهَا زُمُرٌ مِّنَ النَّاسِ يَبْرُقِ اور جس جگہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حق واضح ہوا اور اگر چہ لوگ اسکور د کر دیں وہ حق چمک اٹھتا ہے۔ فَذَرْنِي وَرَبِّي إِنَّنِي لَكَ نَاصِحٌ وَإِنْ أَكُ كَذَّابًا فَارْدَى وَأُوْبَقِ پس مجھے میرے رب کے ساتھ چھوڑ دے اگر میں کا ذب ہوں تو ہلاک کیا جاؤں گا۔ دَعَوْتَ عَلَى فَرَدَّهُ اللَّهُ سَاخِطًا عَلَيْكَ فَصِرْتَ كَمِثْلِ ثَوْبٍ مُخَرْبَقِ تو نے میرے پر بددعا کی سوخدا نے تیری بددعا کو تجھ پر رد کر دیا۔ پس تو پھٹے ہوئے کپڑے کی طرح ہو گیا۔ تَعَالَوْا نُنَاضِلُ أَيُّهَا الزُّمْرُ كُلُّكُمْ لِيَهْلِكَ مَنْ أَرْدَاهُ سَمُ التَّخَلُّقِ اے تمام گروہ کے لوگو! آجاؤ تا کہ وہ شخص ہلاک ہو جو جھوٹ کے زہر سے ہلاک ہوا۔ أَرَاكُمْ كَذِبِ اَوْ كَكَلْبِ بِصَوْلِكُمْ وَضَاهَا تَكَلَّمُكُمْ حِمَارًا يَنْهَقِ میں تمہیں بھیڑیے کی طرح دیکھتا ہوں یا گتے کی طرح حملہ میں اور تمہارا کلام گدھے کے آواز سے مشابہ ہے۔ لَقَدْ ذَاقَ مِنَّا قَوْمُنَا غَيْرَ مَرَّةٍ حُسَامًا جَرَاحَتُهُ إِلَى الْفَرْقِ تَرْتَقِى ہماری قوم نے بے شمار مرتبہ ہماری تلوار کا وہ مزہ چکھا ہے کہ جن کا زخم چوٹی تک پہنچتا ہے۔ وَ إِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ فَسَلُ شَيْخَ فَجْرَةٍ غَوِيًّا غَبِيًّا فِي الْبَطَالَةِ مُوبَقِ پس اگر تجھے شک ہے تو شیخ بٹالوی کو پوچھ لے جو غبی اور غوی اور بطالت میں ہلاک کیا گیا ہے۔ لِكُلِّ امْرِءٍ عَزْمٌ لِأَمْرٍ وَعَزْمُهُ اِهَانَةُ دِيْنِ اللَّهِ فَاذْهَبُ وَحَقِّقِ ہر ایک شخص کسی امر کے واسطے ایک قصد رکھتا ہے اور قصد اس شخص کا اہانت دین کی ہے جا اور تحقیق کرلے۔ الَا أَيُّهَا الشَّيْخُ الشَّقِيُّ تَعَمَّقِ وَفَكِّرُ كَانْسَانٍ إِلَى مَا تَنْهَقِ اے شیخ شقی ! سوچ اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر۔ اكَفَّرْتَ قَوْمًا مُسْلِمِينَ خَبَاثَةً ظَلَمُتَكَ جَهْلًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَارْفَقِ کیا تو نے مسلمان کو از روئے خباثت کا فر ٹھہرایا تو نے جہالت سے اپنے پر ظلم کیا پس ڈر اور نرمی کر ۔