القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 272

۲۷۲ بَلِ اللَّهُ يُرْجِعُ لَعْنَ كُلِّ مُزَوِّرٍ إِلَيْهِ فَيُمْسِي بِالْمَلَاعِينَ مُلْحَقِ بلکہ خدا تعالیٰ ہر ایک جھوٹے کی لعنت اسی پر ڈالتا ہے پس وہ ایسی حالت میں شام کرتا ہے کہ ملعون ہوتا ہے۔ فَدَعُ عَنْكَ ذِكْرَ اللَّعْنِ يَا صَيْدَ لَعْنَةٍ اَلَمْ تَرَ مَا لَا قَيْتَ بَعْدَ التَّلَقُلُقِ اے لعنت کے شکار ! لعنت کا ذکر چھوڑ دئے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بکو اس کے بعد تیرا کیا حال ہوا۔ ا تَزْعَمُ يَامَنْ لَعَنَنِي بِالْجَفَاءِ أَنْ تَخَلَّصَ مِنِّي بَلْ تُدَقُّ وَتُسْحَقِ اے وہ شخص جس نے ظلم کے ساتھ مجھ پر لعنت کی کیا تو سمجھتا ہے کہ تو مجھ سے رہائی پا جائے گا؟ نہیں بلکہ تو اچھی طرح پیا جائے گا۔ كَحَبٌ إِذَا مَا وَقَعَ فِي مَطْحَنِ الرَّحَى فَيَعْرِكُهُ دَورُ الرَّحَى وَيُدَقِّقِ مثل اس دانہ کے جو چکی کے پینے کی جگہ میں پڑ جائے پس چکی اس کو پیس ڈالے گی اور باریک کر دے گی ۔ لَعَنتُمْ وَإِنَّ اللَّهَ يَلْعَنُ وَجْهَكُمْ وَلَا لَعْنَ إِلا لَعْنُ رَبِّ مُمَزِّقِ تم نے لعنت کی اور خدا تمہارے منہ پر لعنت کرتا ہے اور لعنت خدا کی لعنت ہے۔ وَكُنتُ أَغْضُّ الطَّرُفَ صَبْرًا عَلَى الاذى فَلَمَّا انْتَهَى الْإِبْدَاءُ ذُقْتُمْ تَخَفُقِي اور میں ایذا پر چشم پوشی کرتا رہا اور جب ایذا انتہاء کو پہنچی تو تم نے میرے ڈرہ کو چکھ لیا۔ وَإِنْ كَانَ صُلَحَاءُ الزَّمَانِ كَمِثْلِكُمْ فَلَاشَكَ أَنِّي فَاسِقٌ بَلْ كَافْسَقِ اور زمانہ کے صلحاء اگر تمہارے جیسے ہوں تو کچھ شک نہیں کہ میں فاسق بلکہ افسق ہوں ۔ وَمَا إِنْ أَرَى فِي نَفْسِكَ الْعِلْمَ وَالتَّقَى تَصُولُ كَخِنُزِيرٍ وَكَالْحُمُرِ تَشْهِقِ اور میں تیرے نفس میں علم اور عقل نہیں دیکھتا اور تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے۔ رَقَصُتَ كَرَقْصِ بَغِيَّةٍ فِي مَجَالِسٍ وَفَسَّقْتَنِي مَعَ كَوْنِ نَفْسِكَ أَفْسَقِ اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا اور مجھے فاسق ٹھہرایا حالانکہ تو سب سے زیادہ فاسق ہے۔ وَمَا نُكْرِهُ الْمِضْمَارَ إِنْ كُنْتَ اَهْلَهُ وَنَأْتِيكَ يَوْمَ نِضَالِكُمْ بِالتَّشَوُّقِ اور ہم میدان سے کراہت نہیں کرتے اگر تو اس کا اہل ہو اور اور ہم تمہاری لڑائی میں شوق کے ساتھ آئیں گے۔