القصائد الاحمدیہ — Page 227
۲۲۷ ۴۱ أَلَا لَا تَعِبْنِي كَالسَّفِيهِ الْمُشَارِزِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ أَزْمَعْتَ حَرْبِي فَبَارِزِ خبردار! نادان جنگجو کی طرح مجھے عیب نہ لگا اور اگر تو نے مجھ سے جنگ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو میدان میں نکل ۔ وَإِنَّكَ تَذْكُرُنِى كَرَجُلٍ مُّحَقِّرٍ وَتَلْمِزُنِي فِي كُلِّ أَن كَمَارِزِ اور بے شک تو میرا ذکر ایک حقارت کرنے والے آدمی کی طرح کرتا رہتا ہے اور مجھے ہر لحظہ عیب جو کی طرح عیب لگاتا رہتا ہے۔ وَإِنَّا سَمِعْنَا كُلَّ مَا قُلْتَ نَخْوَةً اَتَحْسَبُ خَضْرَائِي بِحُمْقٍ كَتَارِزِ اور بے شک ہم نے سن لیا ہے جو کچھ تو نے تکبر سے کہا ہے۔ کیا تو میرے سبزہ کو حماقت سے خشک چیز کی طرح سمجھتا ہے۔ وَمَا كُنتُ صَوَّالًا وَلَكِنْ دَعَوْتَنِي وَقَدْبَانَ أَنَّكَ تَزْدَرِينِي كَغَارِزِ اور میں حملہ کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن تو نے مجھے دعوت دی اور بے شک ظاہر ہو چکا ہے کہ سوئی چھونے والے کی طرح تو مجھے عیب لگا کر ( دکھ دیتا ہے۔ وَلَا خَيْرَ فِي طَغَوَاكَ يَا ابْنَ تَكَبُّرٍ وَيَفْقَأُ رَبِّي عَيْنَ دُونٍ مُّعَارِزِ اے متکبر ! تیرے حد سے تجاوز کرنے میں کوئی بھی بھلائی نہیں اور میرا رب کمینے معائد کی آنکھ پھوڑ دے گا۔ فَحَرِّجُ عَلَى نَفْسٍ تُبِيدُكَ وَاجْتَنِبُ مَنَاهِجَ فَقَدْ فَاجَتَتْكَ كَفَارِزِ پس اپنے نفس کو جو تجھے ہلاک کر دے گا خوب قابو کر اور نابینائی کے راستوں سے گریز کر جو جدا کر دینے والے صحرائی راستہ کی طرح اچانک تیرے سامنے آجائیں گے۔ وَ لَا تَنْتَهِجُ سُبُلَ الْغَوَايَةِ وَاكْتَئِبُ عَلَى مَا عَرَاكَ وَتُبْ بِقَلْبِ ارِزِ اور تو گمراہی کے راستوں پر نہ چل اور غمگین ہو اس مصیبت پر جو تجھے لاحق ہوئی اور مضبوط دل کے ساتھ تو بہ کر۔ انجام آتھم - روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۴۰)