القصائد الاحمدیہ — Page 203
۳۳ الْقَصِيدَهُ فِي حَمْدِ حَضْرَةِ الْعِزَّةِ وَنَعْتِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ قصیده جناب باری کے حمد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں یہ قصیدہ بروز دوشنبه ۱۵ جولائی ۱۸۹۵ ء قریباً آٹھ بجے دن شروع کیا گیا اور اسی دن بوقت عصر پانچ بجے سے پہلے سوشعر تیار ہو گیا ۔ فَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ وَ تَائِيدُهُ الْخَارِقُ لِلْعَادَةِ منه ) يَامَنُ أَحَاطَ الْخَلْقَ بِالْآلَاءِ نُثْنِي عَلَيْكَ وَلَيْسَ حَوْلُ ثَنَاءِ اے وہ ذات جس نے (اپنی) نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تعریف کی طاقت نہیں ہے أُنْظُرُ إِلَى بِرَحْمَةٍ وَعُطُوفَةٍ يَا مَلْجَأَي يَا كَاشِفَ الْغَمَّاءِ مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کراے میری پناہ! اے حزن و کرب کو دور فرمانے والے! أَنْتَ الْمَلَاذُ وَأَنْتَ كَهْفُ نُفُوسِنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْدَ فَنَاءِ تو ہی جائے پناہ ہے اور تو ہی ہماری جانوں کی پناہ گاہ ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی ۔ إِنَّا رَأَيْنَا فِي الضَّلَامِ مُصِيبَةً فَارْحَمُ وَأَنْزِلْنَا بِدَارِ ضِيَاءِ ہم نے تاریکی کے زمانہ میں مصیبت دیکھی ہے۔ تو رحم فرما اور ہمیں نور کے گھر میں اتار دے۔ تَعْفُوا عَنِ الذَّنْبِ الْعَظِيمِ بِتَوْبَةِ تُنْجِي رِقَابَ النَّاسِ مِنْ أَعْبَاءِ تو تو بہ سے بڑے گناہوں کو ( بھی ) معاف فرما دیتا ہے تو (ہی) لوگوں کی گردنوں کو بھاری بوجھوں سے نجات دیتا ہے۔ أَنْتَ الْمُرَادُ وَأَنْتَ مَطْلَبُ مُهْجَتِى وَعَلَيْكَ كُلُّ تَوَكَّلِي وَرَجَائِي تو ہی مراد ہے اور تو ہی میری روح کا مطلوب ہے اور تجھ پر ہی میرا سارا بھروسہ اور امید ہے۔