القصائد الاحمدیہ — Page 202
۲۰۲ وَأَعَانَنِي رَبِّي لِتَجْدِيدِ مِلَّةٍ وَإِن لَّمْ يُعِنُ فَمَنْ يَنْجُومِنَ الْعَطَبِ اور میرے رب نے مجھے تجدید دین کے لئے مدد دی ہے اور اگر وہ مدد نہ کرے تو ہلاکت سے کون نجات پاسکتا ہے وَقُلْتُ مُرْتَجِلًا مَّا قُلْتُ مِنْ نَّظْمِ وَقَلَمِي مُسْتَهِلُّ الْقَطْرِ كَالسُّحُبِ اور جو نظم میں نے کہی ہے فی البدیہ کہی ہے اس حال میں کہ میرا قلم بارش لانے والا ہے بادلوں کی طرح وَكَفَى لَنَا خَالِقٌ ذُو الْمَجْدِ مَنَّانٌ فَمَا لَنَا فِي رِيَاضِ الْخَلْقِ مِنْ اَرَبِ ہمارے لئے خدائے خالق و بزرگ و حسن کافی ہے پس ہمیں مخلوق کے باغوں کی کوئی حاجت نہیں ہے وَقَدْ جَمَعَ هَذَا النَّظْمُ مِنْ مُلَحٍ وَمِنْ نُّخَبِ بِيُمْنِ سَيِّدِنَا وَنُجُومِهِ النُّجُبِ اور یقیناً اس نظم نے جمع کر لئے ہیں دلکش معانی اور عمدہ تکتے بطفیل برکت ہمارے سردار صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نجیب ستاروں (اصحاب ) کے وَإِنِّي بِأَرْضِ قَدْ عَلَتْ نَارُ فِتْنَتِهَا وَالْفِتَنُ تَجْرِى عَلَيْهَا جَرْيَ مُنْسَرِبٍ اور میں ایسے ملک میں ہوں جس میں اس کے فتنہ کی آگ بلند ہوئی اور فتنے اس میں اس طرح چل رہے ہیں جس طرح تیز رفتار پانی چلتا ہے۔ وَمَنْ جَفَانِي فَلَا يَرْتَاعُ تَبْعَتَهُ بِمَا جَفَا بَلْ يَرَاهُ أَفْضَلَ الْقُرَبِ جو شخص مجھ پر ظلم کرتا ہے وہ اس ظلم کے انجام سے نہیں ڈرتا بوجہ اس ظلم کے جو اس نے کیا بلکہ اسے بڑی فضیلت والا قرب سمجھتا۔ اور جو متا ہے۔ فَأَصْبَحَتْ مُقْلَتَى عَيْنَيْنِ مَاءُ هُمَا يَجْرِي مِنَ الْحُزْنِ وَالْآلَمِ وَالشَّجَبِ ( میری) دونوں آنکھوں کے دوڑیلوں کی یہ حالت ہوگئی کہ غم دکھ اور رنج سے ان دونوں کا پانی جاری تھا ارْجِلْتُ ظُلْمًا وَ اَرْضُ حِبِّى بَعِيدَةٌ فَيَا لَيْتَنِي كُنتُ فَوْقَ الرَّحْلِ وَالْقَتَبِ میں ظلم سے پیادہ پا کر دیا گیا جب کہ میرے محبوب کی سرزمین دور ہے۔ کاش کہ میں اونٹ کے کجاوے اور پالان پر سوار ہوتا۔ ( سر الخلافة - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۳۰-۴۳۱)