القصائد الاحمدیہ — Page 175
۱۷۵ مُتَفَرِّقَ غَيْمُ السَّمَاءِ وَزُجُلُهُ بِيضٌ كَانَّ نِعَاجَ وَادٍ تَسْرَبُ بادل الگ الگ ہیں اور ان کی جماعتیں سفید ہیں گویا جنگل کی بھیڑیں ایک طرف چلی جا رہی ہیں۔ طورًا يُرى مِثْلَ النِّبَاءِ بِحُسْنِهَا أُخْرَى كَا رَامٍ تَمِيسُ وَتَهْرُبُ بعض وقت تو یہ بادلوں کے ٹکڑے ہرنوں کی طرح اپنے حسن میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی کم عمر ہرنوں کی طرح ناز سے چلتے اور بھاگتے ہیں۔ قَمَرٌ كَظُعْنِ وَالسَّحَابُ قِرَامُهَا وَالرِّيحُ كلَّتُهَا لِيُنْهَى الْأَجْنَبُ چاند ہو درج نشین عورتوں کی طرح ہے اور بادل اس ہودہ کا موٹا پردہ ہے اور ہوا اس کا بار یک پردہ ہے تا کہ اجنبی کو روکا جاوے۔ صُبَّتْ عَلَى قَمَرِ السَّمَاءِ مُصِيبَةٌ وَكَمِثْلِنَا بِزَوَالِ نُورٍ يُرْعَـبُ آسمان کے چاند پر مصیبت پڑگئی اور ہماری طرح نور کے زوال پر ڈرایا جاتا ہے۔ إِنِّي أَرى قَطْرًا لَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَبْكِي كَرَجُلٍ يُنْهَبَنُ وَيَخُيِّبُ میں مینہ اس کے پاس دیکھتا ہوں گویا کہ وہ اس شخص کی طرح روتا ہے جو لوٹا جائے اور نومید کیا جائے۔ يَا قَمَرَ زَاوِيَةِ السَّمَاءِ تَصَبَّرَنُ مِثْلِى فَيُدْرِكَكَ النَّصِيرُ الْأَقْرَبُ اے گوشئہ آسمان کے چاند ! میری مانند صبر کر پس خدا تیری مدد کرے گا۔ أَبْشِرُ سَيَنْحَسِرُ الظَّلَامُ بِفَضْلِهِ إِنَّ الْبَلِيَّةَ لَا تَدُومُ وَ تَذْهَبُ خوش ہو کہ عنقریب تاریکی دور ہو جائے گی مصیبت ہمیشہ نہیں رہتی اور چلی جاتی ہے۔ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لَا يُضِيعُ ضِيَاءَهُ فَلِكُلِّ نُورٍ حَافِظٌ وَمُؤَرِّبُ خدا اپنی روشنی کو دور نہیں کرتا اور ہر یک نور کے لئے نگہبان ہے اور پورا کرنے والا ۔ هذَا ظَلَامُ السَّاعَتَيْنِ وَإِنَّنِي مِنْ بُرْهَةٍ أَرْنُوا الدُّجى وَأُعَذَّبُ یہ تو دو گھڑی کا اندھیرا ہے اور میں ایک زمانہ سے اندھیرا دیکھ رہا ہوں اور دکھ اٹھا رہا ہوں۔ تَلِجُ السَّحَابَ لِتَبْكِيَنَّ تَأَلُّمًا وَالصَّبْرُ خَيْرٌ لِّلْمُصَابِ وَاصْوَبُ تو بادل میں داخل ہوتا ہے تا کہ درد دل سے رو دے اور مصیبت زدہ کے لئے صبر کرنا بہتر ہے۔