القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 174

۱۷۴ اَوْ كَابْنِ عَمِّ الْمُرْهَفَاتِ كَلَالَةً اَوْ كَالسِّهَامِ الْمُصْمِيَاتِ تُنَبِّبُ یا وہ دور کے رشتہ سے تلواروں کے چچیرے بھائی ہیں یا وہ ان تیروں کی طرح جو خطا نہیں کرتے ہلاک کرنے والے ہیں۔ ظَلَعُوا إِلَى ظُلْمٍ وَزَيْعَ حِشْنَةً وَإِلَى كَلَامٍ يُؤْذِينُ وَيُحَرِّبُ کینہ کی وجہ سے ظلم او ظلم اور کبھی کی طرف مائل ہو گئے اور اس کلام کی طرف مائل ہوئے جو دکھ دیتی اور غصہ دلاتی ہے۔ وَارَى الدَّنِيَّ الْغُولَ يَهْوِي نَحْوَهُمْ وَإِلَى اَشَائِبِ قَوْمِهِمْ يَتَأَشَّبُ اور میں کمینہ دیو کو دیکھتا ہوں جو ان کی طرف جھکتا ہے اور ان جماعتوں میں ملتا ہے۔ ابِلٌ مِّنَ الْفَاقَاتِ اَحْنَقَ صُلْبُهَا فَاخْتَارَ أَدْيَارًا لِّقُوتٍ يَكْسِبُ ایک اونٹ ہے جو فاقوں سے اس کی کمر دبلی ہوگئی، سو اس نے گرجا اختیار کیا تا قوت حاصل کرے۔ لَيْسُوا مِنَ الْأَسْرَارِ فِي شَيْءٍ هُدًى مَا إِنْ أَرَى مَنْ بِالدَّقَائِقِ يَأْرَبُ اسرار ہدایت میں سے ان کو کچھ بھی حصہ نہیں میں ان میں کوئی نہیں دیکھتا جو بار یک باتوں کو شناخت کرنے والا ہو۔ مَا آمَنُوا حَتَّى إِذَا خَسَفَ الْقَمَرُ عَلِهَتُ قُلُوبُ الْمُنكِرِينَ وَانْبُوا ایمان نہ لائے یہاں تک کہ چاند گرہن ہوا۔ منکروں کے دل حیران ہو گئے اور سرزنش کئے گئے ۔ يَئِسُوا مِنَ الرَّحْمَانِ وَالْكَلِمِ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قَائِمِينَ وَتُرِّبُوا خدا تعالی سے نومید ہو گئے اور نیز ان کلموں سے جن پر قائم تھے اور سرزنش کئے گئے۔ أَوَلَمْ تَكُنْ تَدْرِي قُلُوبُ عِدَا الهُدى أَنَّ الْمُهَيْمِنَ يُخْزِيَنُ مَنْ يَنْكَبُ کیا وہ جو ہدایت کے دشمن ہیں ان کے دل نہیں جانتے ۔ کہ خدا تعالی راہ سے پھرنے والے کو رسوا کرتا ہے؟ اَوَلَمْ تَكُنْ عَيْنُ الْبَصِيرِ رَقِيبَنَا هَلْ يَسْتَوِي الْأَتْقَى وَ رَجُلٌ أَحْوَبُ کیا دیکھنے والے کی آنکھ ہم کو تاڑ نہیں رہی کیا پر ہیز گار اور گنہ گار دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ظَهَرَتْ عَلَامَاتُ الْخُسُوفِ بِلَيْلَةٍ طَلْقٍ لَذِيذ وَ الرَّوَاعِدُ تَصْخَبُ چاند گرہن کی علامات ایک رات خوشنما میں ظاہر ہوگئیں اور بادل آواز کر رہے ہیں۔