القصائد الاحمدیہ — Page 140
۱۴۰ فِي قَلْبِنَا وَجْعٌ وَ شَوْكُ دُعَابَةٍ مِنْ نَخْزِهِمْ خُبُنًا وَطُولِ لِسَانِهِمْ ہمارے دل میں ایک درد اور ان کے ٹھٹھوں کی وجہ سے ایک کانٹا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زبان درازی اور خبیث سے ہمارے دل کو خستہ کیا۔ مَا إِنْ أَرَى أَثَرَ الدَّلَائِلِ عِنْدَهُمْ اَصْبَوْا قُلُوبَ الْخَلْقِ مِنْ عِقْيَانِهِمُ میں ان کے پاس دلائل کا نشان نہیں دیکھتا۔ انہوں نے لوگوں کے دل اپنے سونے کی وجہ سے کھینچ لئے ہیں۔ قَدْ عَاثَ فِي الْأَقْوَامٍ ذِئْبُ شُيُوخِهِمْ حَدَثَتْ فُنُونُ الْفِسْقِ مِنْ حِدْثَانِهِمُ ان کے بڑھوں کے بھیڑیئے نے قوموں میں تباہی ڈالی۔ اور ان کے جوانوں سے طرح طرح کے فسق پھیلے۔ تَعْرِيسُهُمُ اثَارُ عَزْمِ رَحِيْلِهِمْ يُخْفُونَ فِي الْأَرْدَانِ حَبْلَ ظِعَانِهِمْ رات کو اترنا ان کے کوچ کی نشانی ہے۔ انہوں نے اپنی آستینوں میں لمبے رسے اسباب باندھنے کے چھپارکھے ہیں۔ عَارٌ عَلَى الْفَطِنِ الزَّكِي طَعَامُهُمْ ضَارٌ لِخَلْقِ اللَّهِ مَاءُ شِنَانِهِمْ ایک دانا پاک طبع پر عا ر ہے کہ ان کا کھانا کھاوے۔ اور خلق اللہ کے لئے ان کی پرانی مشکوں کا پانی مضر ہے۔ لِلْمَرْءِ قُرُبُ الْمُوْذِيَاتِ جَمِيعِهَا خَيْرٌ لِحِفْظِ الدِّينِ مِنْ قُرُبَانِهِمُ انسان کے لیے تمام موذی جانوروں کا قرب ۔ ان کے قرب سے اپنادین بچانے کے لئے بہتر ہے۔ لَكَ كُلَّ يَوْمٍ رَبِّ شَأْنٌ مُعْجِبٌ فَانْصُرُ عِبَادَكَ رَبِّ فِي مَيْدَانِهِمْ اے میرے رب ! ہر ایک دن تیری عجیب شان ہے۔ سو تو اپنے بندوں کی ان کے میدان میں مدد کر ۔ نَقْنِي التَّضَرُّعَ وَالْبُكَاءَ تَصَبُّرًا نَأْوِي إِلَى الرَّحْمَانِ مِنْ رُكْبَانِهِمْ ہم صبر کر کے تضرع اور رونے کو لازم پکڑتے ہیں۔ اور ان کے سواروں سے ہم خدائے تعالیٰ کی پناہ لیتے ہیں۔ لِلَّهِ سَهُمْ لَا يَطِيشُ إِذَا رَمَى لِلْحَقِّ سُلْطَانٌ عَلَى سُلْطَانِهِمْ خدا کا تیر وہ ہے کہ جب چھوٹا تو خطا نہیں جاتا۔ اور خدا کا قہران کے قہر پر غالب ہے۔ أُنْزِلُ جُنُودَكَ يَا قَدِيرُ لِنَصْرِنَا إِنَّا لَقِينَا الْمَوْتَ مِنْ لُقُيَانِهِمُ اے قادر ! ہمارے لئے اپنا لشکرا تار۔ کیونکہ ہم ان کے ملنے سے موت کو ملے ۔