القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 139

۱۳۹ 2 فَارْبَا بِدِينِكَ عِنْدَ رُؤْيَةِ وَجْهِهِمْ وَاقْنَعُ بِشَوْلٍ مِّنْ جَنِّى بُسْتَانِهِمْ پس جب تو ان کو ملے تو اپنے دین کی نگرانی رکھ اور ان کے باغ کے پھل سے بیزار ہو کر کاٹنے پر قناعت کر۔ الْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْفَتَى مِنْ خُبْزِهِمْ فَاصْبِرُ وَلَا تَجْنَحُ إِلَى تَهْتَانِهِمُ جواں مرد کے لئے مرنا ان کی روٹی سے بہتر ہے پس صبر کر اور ان کے ایک ساعت کے مینہ کی طرف مت جھک۔ وَ نَضَارَةُ الدُّنْيَا تَزُولُ بِطَرْفَةٍ فَاقْنَعُ وَلَا تَنْظُرُ إِلَى أَفْنَانِهِمُ اور دنیا کی تازگی ایک دم میں دور ہو جاتی ہے سو قناعت کر اور ان کی شاخوں کی طرف نظرمت کر۔ النَّارُ تَسْقُطُ كَالصَّوَاعِقِ عِنْدَهُمْ فَتَجَافَ يَا مَغُرُورُ عَنْ أَحْضَانِهِمْ آگ ان کے پاس بجلی کی طرح گر رہی ہے پس ان کے کناروں سے اے دھوکا کھانے والے ایک طرف ہوجا۔ أَيْنَ الْمَفَرُّ مِنَ الْقَضَاءِ إِذَا دَنَا إلَّا إِلَى رَبِّ مُّزِيلِ قِنَانِهِمُ تقدیر سے کہاں بھاگیں جب آگئی صرف خدا تعالیٰ کی پناہ ہے جو ان کے ٹیلوں کو دور کرے گا۔ يَسْبُونَ جُهَالًا بِرِقَةِ لَفْظِهِمُ يُصُبُونَ قَلْبَ الْخَلْقِ مِنْ اِحْسَانِهِمُ جاہلوں کو اپنی نرمی سے غلام بنا لیتے ہیں اور اپنے احسانوں سے خلقت کے دل اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ فَلِذَا يُحِبُّ مُزَوِّرٌ أَدْيَارَهُمْ مِنْ شُرِّهِ مَيْلًا إِلَى مَرْجَانِهِمُ اسی لئے ایک مکاران کے گر جاؤں سے پیار کرتا ہے اپنے لالچ سے ان کے موتی کی خواہش سے۔ وَ لَوِ انْتَقَدْتَ جُمُوعَهُمْ فِي دَيْرِهِمْ لَوَجَدْتَ سِقْطًا شَيْخَهُمْ كَعَوَانِهِمْ اور اگر تو ان کے گر جاؤں میں ان کی جماعتوں کو پرکھے۔ تو ان کے بڑھے کو ایسا ہی رڈی پائے گا جیسا کہ ان کے درمیانی عمر والے کو۔ مَا الْفَرْقُ بَيْنَ الْمُشْرِكِينَ وَبَيْنَهُمْ بَلْ هُمْ بَنَوْا قَصْرًا عَلَى بُنْيَانِهِمْ ان میں اور مشرکین میں فرق کیا ہے؟ ۔ بلکہ انہوں نے تو مشرکوں کی بنیاد کو ایک محل بنا دیا۔ يَهْوِي إِلَيْهِمْ كُلُّ نِكْسٍ فَاسِقٍ لِيَبِيتَ شَبْعَانَا بِلَحْمِ جِفَانِهِمْ ہر ایک ضعیف فاسق ان کی طرف گرتا ہے۔ تا ان کے پیالوں کے گوشت سے پیٹ بھر کے رات گزارے۔