القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 116

١١۶ الم إلى الدُّنْيَا أولى حِزْبُ الْآجَانِيُّ وَحَسِبُوهَا جَنَّى حُلُوا الْمَجَانِي ان لوگوں نے جو بہت ہی گناہوں میں مبتلا ہیں دنیا کو اپنا جائے پناہ قرار دیا ہے اور دنیا کو ایک شیرین اور سہل الحصول میوہ سمجھ لیا ہے۔ نَسُوا مِنْ جَهْلِهِمْ يَوْمَ الْمَعَادِ وَتَرَكُوا الدِّينَ مِنْ حُبِّ الدِّنَانِ اپنی نادانی کے سبب سے معاد کے دن کو بھلا دیا ہے اور شراب کے خموں سے پیار کر کے دین کو چھوڑ دیا ہے۔ تَرَاهُمُ مَائِلِينَ إِلَى مُدَامٍ وَغِيدٍ وَ الْغَوَانِي وَالْآغَانِي تو دیکھتا ہے کہ شراب کی طرف یہ لوگ جھک گئے اور ایسا ہی نازک اندام اور حسین عورتیں اور گیت ان کے دلوں کو کھینچتے ہیں۔ وَكَمْ مِّنْهُمْ اُسَارَى عَيْنِ عِيْنٍ وَمَشْغُوفِينَ بِالْبِيْضِ الْحِسَانِ اور بہتیرے ان میں سے بڑی بڑی آنکھوں والی عورتوں کے قیدی ہیں اور بہتیرے سفید رنگ عورتوں کے فریفتہ ہیں۔ لَهُنَّ عَلَى بُعُولَتِهِنَّ حُكْمٌ تَرى كُلَّا كَمُنْطَلِقِ الْعِنَانِ وہ عورتیں اپنے خاوندوں پر حکم کرتی ہیں اور سب مطلق العنان اور بے پردہ اور شرابخوار ہیں۔ دِمَاءُ الْعَاشِقِينَ لَهُنَّ شُغُلٌ بِعَيْنِ أَخْجَلَتُ ظَبْيَ الْقِنَانِ اپنے عاشقوں کو قتل کرنا ان عورتوں کا کام ہے آل قتل ان کی آنکھ ہے جو پہاڑوں کے ہرنوں کو شرمندہ کرتی ہے۔ وَ مِنْ عَجَبِ جُفُونٌ فَاتِرَاتٌ أَرَيْنَ الْخَلْقَ أَفْعَالَ السِّنَـانِ اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ پلکیں جو سست اور نیم خواب ہیں لوگوں کو برچھیوں کا کام دکھلا رہی ہیں۔ بِنَاظِرَةٍ تَصِيدُ النَّاسَ لَمْحًا تَفُوقُ بِلَحْظِهَا رُمُـحَ الطَّعَانِ وہ عورتیں اپنی آنکھ کی نیم نگاہ سے لوگوں کو شکار کرتی ہیں جن کے گوشتہ چشم کی ہلکی سی نظر نیزوں کے زخم پر فوقیت رکھتی ہے۔