القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 115

۱۱۵ ا لَا لَيْسَ غَيْرَ اللَّهِ شَيْءٌ مُّدَوَّمٌ وَكُلُّ جَلِيسٍ مَّا خَلَا اللَّهَ يَهْجُرُ سنو! اللہ کے سوا کوئی شے ہمیشہ رہنے والی نہیں اور ہر ہم نشیں سوائے اللہ کے جدا ہونے والا ہے۔ تَذَكَّرُ دِمَاءَ الْعَارِفِينَ بِسُبُلِهِ اَلَمْ يَأْنِ أَنْ تَخْشَى أَ أَنْتَ مُحَرَّرُ خدا کی راہ میں عارفین کے بہنے والے خون کو یاد کر۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تو ڈرے؟ یا کیا تو آزاد ہے؟ وَ إِنَّ الْمَنَايَا سَابِحَاتٌ قَوِيَّةٌ أَثَرْنَ غُبَارًا عِنْدَ حُكْمٍ يَصْدِرُ اور یقیناً موتیں تو تیز روگھوڑے ہیں جو غبار اڑاتے ہیں حکم صادر ہونے کے وقت ۔ وَاخِرُ دَعُونَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّذِى هَدَانَا مَنَاهِجَ دِيْنِ حِزْبٍ طُهِّرُوا اور ہماری آخری بات یہی ہے کہ تمام حمد اسی ذات کے لئے ہے جس نے ہمیں پاک گروہ کے دین کی راہوں کی راہنمائی کی۔ (حمامة البشرى - روحانی خزائن جلدے صفحہ ۳۲۶ تا ۳۳۵)