القصائد الاحمدیہ — Page 112
۱۱۲ وَ مَا أَنَا مِمَّنْ يَمْنَعُ السَّيْفُ قَصْدَهُ فَكَيْفَ يُخَوِّفُنِي بِشَتُم مُّكَفِّرُ اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں کہ تلوار اس کے ارادے کو روک سکے۔ پس تکفیر کرنے والا کس طرح مجھے گالیوں سے خوف دلا سکتا ہے۔ يَسُبُّ وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَتْرُكُ التَّقَى عَلَى مِثْلِهِ الْوُعَاظِ يَبْكِي الْمِنْبَرُ وہ گالی دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ تقویٰ چھوڑ رہا ہے۔ اس جیسے واعظوں پر ہی منبر روتا ہے۔ وَمَا إِنْ رَبَّيْنَا وَعْظَهُ غَيْرَ فِتْنَةٍ وَ مَا زَالَتِ الشَّحْنَاءُ تَنْمُو وَ تَكْثُرُ اور ہم نے اس کے وعظ کوفتنہ کے سوا کچھ نہ پایا اور دشمنی بڑھتی گئی اور بڑھ رہی ہے۔ وَكَفَرَنِي حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَصْلَى بِحُبِّ الْكُفْرِ نَارً ا يُسَعَّرُ اور اس نے میری تکفیر کی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کفر کی محبت کی وجہ سے ضرور آگ میں داخل ہوگا۔ عَجِبْتُ لَهُ لَا يَتْرُ كَنَّ شُرُورَهُ وَذَكَرَهُ مِنْ كُلِّ نُصْحٍ مُذَكِّرُ حیران ہوں کہ وہ اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑ رہا حالانکہ اسے ہر قسم کی نصیحت کی ہے نصیحت کرنے والے نے۔ وَ مِنْ عَجَبِ الأَيَّامِ أَنِّى كَافِرٌ بِأَعْيُنِ رَجُلٍ حَاسِدٍ بَلْ أَكْفَرُ میں اور یہ زمانہ کے حیران کن امور میں سے ہے کہ میں کافر ہوں ایک حاسد آدمی کی نگاہ میں بلکہ اکثر ہوں۔ وَ كَيْفَ أَخَافُ الْحَاسِدِينَ وَ سَبَّهُمْ وَيَرْحَمُنِي رَبِّي وَ يُؤْوِى وَيَنْصُرُ اور میں حاسدوں اور ان کے گالی دینے سے کس طرح ڈرسکتا ہوں جب کہ میرا رب مجھ پر رحم کر رہا ہے اور مجھے ) پناہ دے رہا ہے اور مدد دے رہا ہے۔ أُحِبُّ مَصَائِبَ سُبُلِ رَبِّي وَإِنَّهَا لَا طِيَبُ لِي مِنْ كُلِّ عَيْشٍ وَ أَطْهَرُ اپنے رب کی راہوں کے مصائب سے میں محبت رکھتا ہوں اور وہ میرے لئے ہر زندگی سے زیادہ خوشگوار اور پاکیزہ ہیں۔ ايَا أَيُّهَا الألوى كَسَبُعِ تَغَيُّظًا فَسَتَعْلَمَنُ فِي أَيِّ شَكْلٍ تُحْشَرُ اے درندے کی طرح غصہ کی حالت میں سخت دشمنی کرنے والے ! تو عنقریب جان لے گا کہ تو کس شکل میں اٹھایا جائے گا۔ فَلَا تَقْفُ مَا لَا تَعْلَمَنْ اَسْرَارَهُ وَكَمْ مِّنْ عُلُومِ الْحَقِّ تُخْفَى وَ تُسْتَرُ پس نہ پیچھے پڑاس بات کے جس کے بھید تو نہیں جانتا جب کہ کتنے ہی الہی علوم ہیں جو مخفی اور مستور رکھے جاتے ہیں ۔