القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 111

111 وَلِلْكُفْرِ ثَارٌ وَ لِلدِّينِ مِثْلُهَا فَقُومُوا لِتَفْتِيشِ الْعَلَامَاتِ وَ انْظُرُوا اور کفر کی بھی کچھ علامات ہیں اور اسی طرح دین کی بھی۔ پس کھڑے ہو جاؤ ان علامتوں کی تلاش کے لئے اور غور کرو۔ اَ تَحْسَبُ أَنَّ اللَّهَ يُخْلِفُ وَعْدَهُ اَتَنْسَى الْمَوَاعِيدَ الَّتِي هِيَ أَظْهَرُ کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ اپنے وعدہ کے خلاف کرے گا ؟ کیا تو ان عذاب کی خبروں کو بھول رہا ہے جو کہ بہت ہی واضح ہیں۔ وَ يَأْتِيكَ وَعْدُ اللَّهِ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَى فَتَعْرِفُهُ عَيْنٌ تَحِدُّ وَ تُبْصِرُ اور تیرے پاس اللہ کا وعدہ آ جائے گا اس طرف سے جسے تو نہیں جانتا ۔ سو اس کو تیز نگاہ پہچان لے گی اور دیکھ لے گی۔ وَقَدْ عَلِمَ الْأَعْدَاءُ أَنِّي مُؤَيَّدٌ وَلَكِنَّهُمْ مِّنْ حِقْدِهِمْ قَدْ أَنْكَرُوا اور دشمنوں نے جان لیا ہے کہ میں تائید یافتہ ہوں لیکن انہوں نے اپنے کینے کی وجہ سے انکار کر دیا ہے۔ ا لَا أَيُّهَا الْإِخْوَانُ بَثُوا وَأَبْشِرُوا هَنِيًّا لَّكُمْ عِيدٌ جَدِيدٌ أَكْبَرُ اے بھائیو! خوش ہو جاؤ اور خوشی مناؤ۔ مبارک ہو تمہارے لئے بہت بڑی نئی عید ہے۔ وَ لَيْسَ لِعَضُبِ الْحَقِّ فِي الدَّهْرِ كَاسِرٌ وَ مَا يَصْنَعُونَ مِنَ الْحَدِيدِ فَيُكْسَرُ اور حق کی تلوار کو زمانہ میں کوئی توڑنے والا نہیں اور جو کچھ وہ لوہے سے بنارہے ہیں وہ توڑ دیا جائے گا۔ وَ هَلُ جَائِزٌ سَبُّ الْمُؤَيَّدِ بَعْدَمَا اَتَتْ آيَةُ الْمَوْلَى وَ ظَهَرَ الْمُضْمَرُ کیا (خدا کے ) تائید یافتہ کو گالی دینا جائز ہے بعد اس کے کہ مولی کا نشان آچکا ہو اور مخفی بات ظاہر ہو چکی ہو۔ وَ فِي يَدِ رَبِّي كُلُّ عِزّ وَ سُوْدَدٍ وَعَزِيزُهُ مِنْ كَيْدِكُمْ لَا يُحَقَّرُ اور میرے رب کے ہاتھ میں ہی ہر عزت اور سردائی ہے اور جو اس کا پیارا ہے وہ تمہاری تدبیروں سے حقیر نہیں ہو سکتا۔ فَمَنْ ذَا يُعَادِينِي وَرَبِّي يُحِبُّنِي وَمَنْ ذَا يُرَادِينِي وَرَبِّي مُعَزِّرُ پس کون ہے جو مجھ سے عداوت رکھے جب کہ میرا رب مجھ سے محبت کر رہا ہے اور کون ہے جو مجھ پر پتھر پھینکے جب کہ میرا رب میرا مددگار ہے۔ لَنَا كُلَّ يَوْمٍ نُصْرَةٌ بَعْدَ نُصْرَةٍ وَيَأْتِي الْحَبِيبُ مَقَامَنَا وَ يُبَشِّرُ ہمیں ہر روز نصرت کے بعد نصرت مل رہی ہے اور ہمارا حبیب ہمارے پاس آتا ہے اور بشارت دیتا ہے۔