القصائد الاحمدیہ — Page 102
۱۰۲ فَخُذْ بِيَدِي يَارَبِّ فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَأَيِّدْ غَرِيبًا يُلْعَنَنُ وَيُكَفِّرُ اے میرے رب ! ہر معرکہ میں میرا ہاتھ پکڑ اور اس بے یارو مددگار کی تائید فرما جو لعنت اور تکفیر کیا جا رہا ہے۔ اَتَيْتُكَ مِسْكِيْنا وَ عَوْنُكَ اَعْظَمُ وَجِئْتُكَ عَطْشَانًا وَّ بَحْرُكَ اَزْخَرُ میں مسکین ہو کر تیرے حضور آیا ہوں اور تیری مد دسب سے بڑی ہے اور میں پیاسا ہو کر تیرے پاس آیا ہوں اور تیرا سمندر بہت موجزن ہے۔ قَدِ انْدَرَسَتْ آثَارُ دِيْنِ مُحَمَّدٍ فَأَشْكُوا إِلَيْكَ وَ أَنْتَ تَبْنِي وَ تَعْمُرُ دین محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نشان مٹ چکے ہیں۔ پس میں تیرے حضور شکایت کرتا ہوں، تو ہی تعمیر کرتا اور آباد کرتا ہے۔ أرى كُلَّ يَوْمٍ فِتْنَةٌ قَدْ مُدِّدَتْ وَمِتْنَا وَ أَمْوَاتُ الْأَعَادِي بُعْثِرُوا میں ہر روز ایک فتنہ دیکھتا ہوں جو پھیلایا گیا ہے اور ہم تو مر گئے ہیں اور دشمنوں کے مردے جی اٹھے ہیں۔ وَ قَدْ أَزْمَعُوا أَنْ يُزْعِجُوا سُبُلَ الْهُدَى وَكَمْ مِنْ أَرَاذِلَ مِنْ شَقَاهُمْ تَنَصَّرُوا اور انہوں نے عزم کر لیا ہے کہ ہدایت کے راستوں کو جڑ سے اکھیڑ دیں اور بہت سے کمینے اپنی بدبختی سے عیسائی ہو گئے ہیں۔ أرى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقَّرُ میں دین سے ہر بے بہرہ کو اپنی دنیا کے لئے رونے والا پاتا ہوں۔ پس کون ہے وہ جو روئے اس دین کے لئے جس کی تحقیر کی جارہی ہے۔ فَيَا نَاصِرَ الْإِسْلَامِ يَارَبَّ أَحْمَدَا اَغِثْنِي بِتَائِيدٍ فَإِنِّي مُدْخَرُ اے اسلام کے ناصر ! اے احمد کے رب! تائید کے ساتھ میری فریاد رسی کر ۔ میں تو ذلیل کیا گیا ہوں ۔ اَ يَا رَبَّ مَنْ أَعْطَيْتَهُ كُلَّ دَرَجَةٍ وَشَانًا بِرُؤْيَتِهِ الْوَرى تَتَحَيَّرُ اے اس رسول کے رب جسے تو نے ہر درجہ دیا ہے اور ایسی شان جسے دیکھ کر مخلوق حیران ہو رہی ہے۔ وَ مَا زِلْتَ ذَا لُطْفٍ وَعَطْفٍ وَ رَحْمَةٍ وَمَا كُنتُ مَحْرُوْمًا وَكُنتُ أَوَقَرُ اور تو ہمیشہ لطف مہربانی اور رحمت کرنے والا رہا ہے اور میں کبھی بھی محروم نہیں رہا اور عزت ہی پاتا رہا ہوں ۔ فَلَا تَجْعَلَنِي مُضْغَةً لِمُحَارِبِى وَ أَنْتَ وَحِيدِي كُلَّ خَطْرٍ تَغْفِرُ سو مجھے لقمہ نہ بنادینا مجھ سے لڑنے والے کا۔ تو میر ایگا نہ خدا ہے ۔ تو ہر ایک خطا بخش دیتا ہے۔