سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 60
صلى الله سيرة النبي علي 45 جلد 7 یہ لوگ واپس آگئے تو اُنہوں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی ۔ مدینہ کے گھروں سے سے بہت ، نکال کر کر باہر پھینکے پھیکے جانے لگے۔ لگے ۔ بتوں بتوں کے آگے آگے سر جھکانے والے لوگ اب گردنیں اٹھا کر چلنے لگے ۔ خدا کے سوا اب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔ یہودی حیران تھے کہ صدیوں کی دوستی اور صدیوں کی تبلیغ سے جو تبدیلی وہ پیدا نہ کر سکے اسلام نے وہ تبدیلی چند دنوں میں پیدا کر دی۔ توحید کا وعظ مدینہ والوں کے دلوں میں گھر کرتا جاتا تھا۔ یکے بعد دیگرے لوگ آتے اور مسلمانوں سے کہتے ہمیں اپنا دین سکھاؤ۔ لیکن مدینہ کے نو مسلم نہ تو خود اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف تھے اور نہ اُن کی تعداد اتنی تھی کہ وہ سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کو اسلام کے متعلق تفصیل سے بتاسکیں اس لئے اُنہوں نے مکہ میں ایک آدمی بھجوایا اور مبلغ کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب نامی ایک صحابی کو جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے مدینہ میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجوایا ۔ مصعب مکہ سے باہر پہلا اسلامی مبلغ تھا۔ اسراء وں اور انہی ایام میں خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے لئے پھر ایک زبردست بشارت دی ۔ آپ کو ایک کشف میں بتایا گیا کہ آپ یروشلم گئے ہیں اور نبیوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی 44 ۔ یروشلم کی تعبیر مدینہ تھا جو آئندہ کے لئے خدائے واحد کی عبادت کا مرکز بننے والا تھا اور آپ کے پیچھے نبیوں کے نماز پڑھنے کی تعبیر یہ تھی کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے اور آپ کا مذہب عالمگیر ہو جائے گا ۔ یہ وقت مکہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی سخت تھا اور تکالیف انتہا کو پہنچ چکی تھیں ۔ اس کشف کا سنانا مکہ والوں کے لئے ہنسی اور استہزاء کا ایک نیا موجب ہو گیا اور اُنہوں نے ہر مجلس میں آپ کے اس کشف پر ہنسی اڑانی شروع کی ۔ مگر کون جانتا تھا کہ نئے یروشلم کی تعمیر شروع تھی ۔ مشرق و مغرب کی قو میں کان دھرے خدا کے آخری نبی کی آواز سننے کے لئے متوجہ