سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 59

صلى الله سيرة ة النبي علي 44 جلد 7 تعلیم کا ذکر کرنا شروع کیا ۔ اُس وقت مدینہ میں دو عرب قبائل اوس اور خزرج بستے تھے اور تین یہودی قبائل یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر اور بنو قینقاع ۔ اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی تھی ۔ بنو قریظہ اور بنو نضیر اوس کے ساتھ اور بنو قینقاع خزرج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ مدتوں کی لڑائی کے بعد اُن میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ ہمیں آپس میں صلح کر لینی چاہئے ۔ آخر باہمی مشورہ سے یہ قرار پایا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول جو خزرج کا سردار تھا اُسے سارا مد ینہ اپنا بادشاہ تسلیم کر لے۔ یہودیوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اوس اور خزرج بائبل کی پیشگوئیاں سنتے رہتے تھے۔ جب یہودی اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کا حال بیان کرتے تو اُس کے آخر میں یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ایک نبی جو موسی کا مثیل ہو گا ظاہر ہونے والا ہے، اُس کا وقت قریب آ رہا ہے، جب وہ آئے گا ہم پھر ایک دفعہ دنیا پر غالب ہو جائیں گے ، یہود کے دشمن تباہ کر دیئے جائیں گے۔ جب اُن حاجیوں سے مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی کو سنا آپ کی سچائی اُن کے دلوں میں گھر کر گئی اور اُنہوں نے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے ۔ پس بہت سے نوجوان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی سے متاثر ہوئے اور یہودیوں سے سنی ہوئی پیشگوئیاں اُن کے ایمان لانے میں مؤید ہوئیں۔ چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔ بارہ آدمی اس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کر کے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ ان میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دو اوس کے ۔ منی میں وہ آپ سے ملے اور اُنہوں نے آپ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے، وہ چوری نہیں کریں گے، وہ بدکاری نہیں کریں گے، وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے، وہ ایک دوسرے کے اوپر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے، نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے 43 ۔