سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 489
صلى الله سيرة النبي علي 474 جلد 7 بھیجیں گے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے وہ تمام مسائل جن پر یورپ کے مدبرین اور بڑے بڑے فلاسفر بھی اعتراض کیا کرتے تھے آج دنیا اُن کی معقولیت کی قائل وردہ تسلیم کرتی ہے کہ دنیا کی مشکلات کا صحیح حل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ تعلیم میں ہی ہے ۔ اسلامی تعلیم کی برتری کا اعتراف ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب توحید کے اعلان پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو انتہائی مصائب کا نشانہ بنایا گیا مگر آج ساری دنیا خدائے واحد کے آستانہ پر سر جھکائے ہوئے ہے بلکہ وہ لوگ جو مذہباً تثلیث کے قائل ہیں یا مذہباً سینکڑوں دیوتاؤں کو تسلیم کرتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا تو ایک ہی ہے باقی سب اُس کے ظہور ہیں ۔ پھر شراب کو اچھا سمجھا جاتا تھا، اسلام کے مسئلہ طلاق پر اعتراض کیا جاتا تھا ، تعدد ازدواج کو عورتوں کے لئے شدید ظلم قرار دیا جاتا تھا، سود کو تجارت کا ایک لازمی جزو سمجھتے ہوئے بڑا مفید خیال کیا جاتا تھا، پردہ کو برا قرار دیا جاتا تھا ، ورثہ کے مسائل کو درست نہیں سمجھا جاتا تھا مگر آج دنیا ٹھوکریں کھا کر اس تعلیم کی طرف آرہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی کیونکہ خدا نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ وہ آپ کو مقام محمود عطا کرے گا اور دنیا آپ کے اخلاق اور آپ کی تعلیم کی برتری کی وجہ سے اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ کی تعریف کرے گی ۔ دشمنوں کے منہ سے محمد رسول اللہ حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام فضائلِ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سے اس طرح متصف کر کے مبعوث نے لے فرمایا ہے کہ کوئی خوبی نہیں جو آپ میں نہ پائی جاتی ہو اور کوئی کمال نہیں جو آپ کے اندر نہ دکھائی دیتا ہو اور پھر ہر کمال اپنے اپنے دائرہ میں ایسی امتیازی شان کے ساتھ آپ کے اندر پایا جاتا ہے کہ دوست تو الگ رہے دشمن بھی آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں اور