سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 488

سيرة النبي علي صلى الله 473 ہمالیہ سے بھی بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ جلد 7 ہر وصف میں یکتا اور بے نظیر نبی انہوں نے تعصب کی پٹی اپنی آنکھوں سے اتار کر اس کے اخلاق فاضلہ کو دیکھا تو انہیں بے مثال پایا اور اس کے زندگی بخش کلام کو سنا تو اُسے تمام کلاموں سے افضل پایا۔ اس کے علم کو دیکھا تو دنیا کے بڑے بڑے عالموں کو اس کے سامنے جاہل پایا۔ اس کی معرفت کو دیکھا تو بڑے بڑے عارفین کو اُس کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرتے دیکھا۔ اس کی محبت اور تعلق باللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کا ویسا عاشق اور سچا عبادت گزارا نہیں ساری دنیا میں نظر نہ آیا۔ انہوں نے اس کے دلائل و بینات کا جائزہ لیا تو ان کا رد کرنے کی دنیا کے کسی مذہب میں طاقت نہ پائی ۔ اس کی دعاؤں کی قبولیت کو دیکھا تو انہیں بے نظیر پایا۔ اس کے فیوض و برکات اور اس کی تعلیمات کا مشاہدہ کیا تو دنیا میں اُن کا کوئی ثانی نہ دیکھا۔ اس کی پیشگوئیوں پر انہوں نے نظر دوڑائی تو انہیں آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک بڑا نشان دیکھا۔ غرض جس پہلو سے بھی انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اُسے مجسمہ حسن واحسان پایا اور وہ آپ کے ایسے والہ وشیدا ہوئے کہ تمام دنیوی علائق کو توڑ کر وہ آپ سے ایسے وابستہ ہو گئے اور اس عہدِ وفا کو انہوں نے مرتے دم تک اس خوبی سے نباہا کہ پہلی امتیں اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ زبانوں پر حمد کے ترانے یہی وہ چیز تھی جس کی خدا تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے ان الفاظ میں خبر دی گئی تھی کہ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا یعنی اے محمد رسول اللہ ! آج لوگ تیرا حسن دیکھنے سے قاصر ہیں وہ تجھے ایسی گٹھلی سمجھتے ہیں جو پاؤں تلے روندی جائے گی ، ایک ایسا بیج خیال کرتے ہیں جسے پرندے اُچک کر لے جائیں گے مگر ہم نے تیرے اندر ایسی خوبیاں لے تیرے اندرا ہی جو بیاں ودیعت کر دی ہیں کہ جوں جوں ان خوبیوں کا ظہور ہوتا جائے گا تیری حمد کے ترانے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہوتے جائیں گئے اور مدتم کہنے والے تجھ پر درود اور سلام