سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 356

سيرة النبي علي صلى الله 341 کی اخلاقی مثال بھی دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔ جلد 7 اس وقت میری صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں کوئی لمبا مضمون بیان کروں ۔ میری غرض اس وقت آنے کی یہ تھی کہ تمہیں بتاؤں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کا نقشہ آپ کے پہلے الہام میں کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ایک با اخلاق انسان کو جب کوئی کام دیا جاتا ہے تو پہلے وہ پوچھتا ہے کہ مجھے بتاؤ کہ میں تمہاری بات کیوں مانوں؟ میں ڈر سے کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ۔ جب اُس پر حق ثابت کیا جاتا ہے تو اعلیٰ اخلاق والا انسان یہ کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ آپ کا مجھ پر حق ہے لیکن اس کام کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہے اس لئے پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تمہارا ان پر بھی حق ہے؟ اگر تمہارا ان پر بھی حق ہے تو پھر میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا ۔ پھر جب یہ سوال حل ہو جاتا ہے تو اخلاق فاضلہ والا انسان یہ پوچھتا ہے کہ مخاطبین پر تمہارا حق سہی مگر کیا اس پیغامبری کا مادی یا اخلاقی فائدہ ہے اور اس پیغام کے پہنچانے میں کوئی حکمت کارفرما ہے؟ اگر ایسا ہو تو میں یہ کام کر سکتا ہوں ورنہ نہیں کیونکہ اس کے بغیر کام کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ گو میں ایک فرض بجا لاتا ہوں، گو میں لوگوں کو اُن کے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں مگر ایک بے فائدہ اور بے نتیجہ کام کرتا ہوں ۔ چنانچہ فطرتِ صحیحہ کے اس مظاہرہ کا بھی جواب اس آیت میں دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کام بظاہر بے فائدہ نظر آتا ہے مگر حقیقتا بے فائدہ نہیں نتیجہ خیز ہے اور مفید ہے ۔ غرض ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق ہے کیونکہ اس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور تربیت کر کے کمال تک پہنچایا ہے ۔ پھر مخلوقات پر بھی اُس کا حق ہے کیونکہ وہ ان کا بھی خالق و مالک ہے۔ پھر انسان کی فطرت میں خدائی محبت رکھی گئی ہے اس لئے یہ کہنا کہ آپ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے غلط ہے ۔ آج احمدی بھی کہتے ہیں کہ غیر احمدی کس طرح مانیں گے؟ تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو عَلَق سے پیدا کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کی