سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 277

ة سيرة النبي علي صلى الله 262 جلد 7 تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللهِ اور چونتیس دفعہ اللهُ اَكْبَر کہہ لیا کرو۔ یہ تمہارے لئے لونڈی اور غلام سے زیادہ بہتر ہو گا 285 ۔ ایک دفعہ کچھ اموال آئے اور آپ نے اُن کو تقسیم کر دیا۔ تقسیم کرتے وقت ایک دینار آپ کے ہاتھ سے گر گیا اور کسی چیز کی اوٹ میں آگیا۔ مال تقسیم کرتے کرتے آپ کے ذہن سے وہ بات اتر گئی سب مال تقسیم کرنے کے بعد آپ مسجد میں آئے اور نماز پڑھائی ۔ نماز پڑھانے کے بعد بجائے اس کے کہ ذکر الہی میں مشغول ہو جاتے جیسا کہ آپ کی عادت تھی یا لوگوں کو اپنی ضروریات کے پیش کرنے یا مسائل پوچھنے کا موقع دیتے آپ تیزی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ئے ۔ا ایسی تیزی کے ساتھ کہ بعض صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہماری گردنوں پر کودتے ہوئے آپ اندر کی طرف چلے گئے اور دینار تلاش کیا۔ پھر واپس تشریف لائے اور باہر آ کر وہ دینا ر کسی مستحق کو دیتے ہوئے فرمایا یہ دینا ر گر گیا تھا اور مجھے بھول گیا تھا مجھے نماز پڑھاتے ہوئے یاد آیا اور میرا دل اس خیال سے بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور لوگوں کا یہ مال میرے گھر میں ہی پڑا رہا تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا اس لئے میں فوراً اندر گیا اور جا کر یہ مال نکال لایا 286 ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ نے صدقہ کو اپنی اولاد کے لئے حرام کر دیا تا ایسا نہ ہو کہ آپ کے اعزاز اور احترام کی وجہ سے صدقہ کے اموال لوگ آپ کی اولاد میں ہی تقسیم کر دیا کریں اور دوسرے غریب محروم رہ جائیں۔ ایک دفعہ آپ کے سامنے صدقہ کی کچھ کھجوریں لائی گئیں ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ کے نواسے تھے اور جن کی عمر اس وقت دو اڑھائی سال کی تھی اُس وقت آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً انگلی ڈال کر اُن کے منہ سے کھجور نکالی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے 287 ۔