سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 276
لله صلى الله سيرة ابي عليه 261 جلد 7 مسکراتے رہے اور اُس کو اس حرکت سے منع نہ کیا جب وہ پیٹ بھر کر آپ کے کپڑوں کو خراب کر چکا تو آپ پ نے نے مذاقاً مذاقاً فرمایا میرے میرے پاس ایک غلام ہے کوئی اس اس کا کا خریدار ہے؟ آپ کے اس فقرہ نے اُس کو عرش سے فرش پر لا کر پھینک دیا اور اس بات کی طرف اس کی توجہ پھرا دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کون مجھ کو قدر کی نگاہوں سے دیکھ سکتا ہے اور میں کسی قابل ہوں کہ غلام کر کے ہی کوئی مجھے خریدے۔ اس نے افسردگی سے کہا يَا رَسُولَ الله! میرا خریدار دنیا میں کوئی نہیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں ! نہیں ! ایسا مت کہو تمہاری قیمت خدا کی نظر میں بہت زیادہ ہے 283 ۔ آپ نہ صرف خود غرباء کا خیال رکھتے تھے بلکہ اپنی جماعت کو بھی غرباء کا خیال رکھنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی حاجت مند آتا تو آپ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے فرماتے کہ آپ بھی اس کی سفارش کریں تا کہ نیک کام کی سفارش کے ثواب میں شامل ہو جائیں 284۔ اس طرح آپ ایک طرف تو اپنی جماعت کے لوگوں کے دلوں میں غرباء کی امداد کا احساس پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف خودسوالی کے دل میں دوسرے مسلمانوں کی نسبت محبت کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتے ۔ غرباء کے مالوں کی حفاظت اسلام کی فتح کے بعد سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے اموال آتے انہیں آپ مستحقین میں تقسیم کر دیتے ۔ ایک دفعہ بہت سا مال آیا تو آپ کی لڑکی حضرت فاطمہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا يَا رَسُولَ اللہ! یہ دیکھئے میرے ہاتھ چکی ہیں پیس کر زخمی ہو گئے ہیں اگر آپ مجھے ان اموال میں سے کوئی لونڈی یا غلام دے دیں تو وہ میرا ہاتھ بٹا دیا کریں ۔ آپ نے فرمایا فاطمہ ! میری بیٹی ! میں تم کو لونڈی یا غلام رکھنے و لونڈی یا غلام رہنے سے زیادہ قیمتی چیز بتاتا ہوں ۔ جب تم سونے لگو تو تم تینتیس دفعہ الْحَمْدُ لِلَّهِ