سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 261

سيرة النبي علي صلى الله 246 جلد 7 کھڑے ہو گئے ۔ اتنے میں اور صحابی بھی جمع ہو گئے اور آپ کے اردگرد کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تم یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کر دیں تو میں اس کی اتباع کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن میں تو خدا کے حکم کے خلاف یہ کھجور کی شاخ بھی تم کو دینے کے لئے تیار نہیں ۔ تمہارا وہی انجام ہوگا جو خدا نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے۔ اگر تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے پاؤں کاٹ دے گا اور میں تو دیکھ رہا ہوں کہ خدا نے جو کچھ مجھے دکھایا تھا وہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ۔ پھر فرمایا میں جاتا ہوں جو باتیں کرنی ہیں میری طرف سے ثابت بن قیس بن شماس کے ساتھ کرو۔ یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے آئے ۔ حضرت ابو ہریرہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ راستہ میں کسی نے آپ سے پوچھا يَا رَسُولَ الله ! آپ نے یہ کیا فرمایا ہے کہ جو کچھ مجھے خدا نے دکھایا تھا میں تجھے ویسا ہی پاتا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے ہاتھ میں دو کڑے ہیں ۔ میں نے اُن کڑوں کو دیکھ کر نا پسند کیا۔ اُس وقت مجھے خواب میں ہی وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں ۔ جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اُڑ گئے ۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے مدعی میرے بعد ظاہر ہوں گے 261 ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا یہ آخری زمانہ تھا۔ عرب کی سب سے بڑی اور آخری قوم آپ کی فرمانبرداری کرنے کے لئے تیار تھی اور صرف اتنی شرط کرتی تھی کہ اس کے سردار کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں۔ ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ذاتی بڑائی کا کوئی بھی خیال ہوتا تو ایسی حالت یں کہ آپ کیا کیا اب کی میں کہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی آپ کے لئے کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ آپ عرب کی سب سے بڑی قوم کے سب سے بڑے سردار کو اپنی جانشینی کی امید دلاتے اور سارے عرب کے اتحاد کا راستہ کھول دیتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کسی چھوٹی سے