سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 260

سيرة ة النبي علي صلى الله 245 جلد 7 حاضر ہونے کی یاد کو تازہ رکھتے۔ چنانچہ جب آپ سوتے تو یہ کہتے ہوئے سوتے بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ اَمُوْتُ وَأَحْى - اے خدا تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں مروں اور تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں اٹھوں ۔ اور جب آپ صبح اٹھتے تو فرماتے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ 259 ۔ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں جس نے مرنے کے بعد ہم کو زندہ کیا اور پھر ہم اپنے رب کے سامنے جانے والے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے قرب کی اتنی خواہش تھی کہ ہمیشہ آپ خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہتے تھے اللَّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِي نُورًا وَّ فِي بَصَرِي نُورًا وَّ فِي سَمْعِي نُورًا وَّعَنْ يَمِينِي نُورًا وَّعَنْ يَسَارِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَ آمَامِي نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَاجْعَلُ لِى نُورًا 260 یعنی اے میرے رب ! میرے دل میں بھی اپنا نور بھر دے اور میری آنکھوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے کانوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے دائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے بائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے اوپر بھی تیرا نور ہو اور میرے نیچے بھی تیرا نور ہو اور میرے آگے بھی تیرا نور ہو اور میرے پیچھے بھی تیرا نور ہو اور اے میرے رب ! میرے سارے وجود کو نور ہی نور بنا دے۔ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آپ کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب آیا اور اس نے کہا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں گا ۔ اُس وقت اُس کے ساتھ ایک بہت بڑی جمعیت تھی اور جس قوم سے وہ تعلق رکھتا تھا وہ قوم سارے عرب کی قوموں سے تعداد میں زیادہ تھی ۔ جب سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مدینہ میں آنے کی خبر ملی تو آپ اُس کی طرف گئے ۔ ثابت بن قیس بن شماس آپ کے ساتھ تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی ۔ آپ اُس قافلہ تک آ قافلہ تک آئے اور مسیلمہ کذاب کے سامنے