سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 140

صلى الله سيرة النبي علي رض 125 رض جلد 7 علیہ وسلم نے بھی اُن کے اس مطالبہ کو مان لیا۔ سعد کو جو جنگ میں زخمی ہو چکے تھے اطلاع دی کہ تمہارا فیصلہ بنو قریظہ تسلیم کرتے ہیں آکر فیصلہ کرو۔ اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی اوس قبیلہ کے لوگ جو بنو قریظہ کے دیر سے حلیف چلے آئے تھے وہ سعد کے پاس دوڑ کر گئے اور اُنہوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ خزرج نے اپنے حلیف یہودیوں کو ہمیشہ سزا سے بچایا ہے آج تم بھی اپنے حلیف قبیلہ کے حق میں فیصلہ دینا۔ سعد زخموں کی وجہ سے سواری پر سوار ہو کر بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان کی قوم کے افراد ان کے دائیں بائیں دوڑتے جاتے تھے اور سعد سے اصرار کرتے جاتے تھے کہ دیکھنا ! بنو قریظہ کے خلاف فیصلہ نہ دینا ۔ مگر سعد نے صرف یہی جواب دیا کہ جس کے سپرد فیصلہ کیا جاتا ہے وہ امانت دار ہوتا ہے اُسے دیانت سے فیصلہ کرنا چاہئے ۔ میں دیانت سے فیصلہ کروں گا ۔ جب سعد یہود کے قلعہ کے پاس پہنچے جہاں ایک طرف بنو قریظہ قلعہ کی دیوار سے کھڑے سعد کا انتظار کر رہے تھے اور دوسری طرف مسلمان بیٹھے تھے تو سعد نے پہلے اپنی قوم سے پوچھا کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ جو میں فیصلہ کروں گا وہ آپ لوگ قبول کریں گے؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ پھر سعد نے بنو قریظہ کو مخاطب کر کے کہا کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ جو فیصلہ میں کروں وہ آپ لوگ قبول کریں گے؟ اُنہوں نے کہا ہاں ۔ پھر شرم سے دوسری طرف دیکھتے ہوئے نیچی نگاہوں سے اُس طرف اشارہ کیا جدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے اور کہا اِدھر بیٹھے ہوئے لوگ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ اس کے بعد سعد نے بائبل کے حکم کے مطابق فیصلہ سنایا 116۔ بائبل میں لکھا ہے :۔ وو اور جب تو کسی شہر کے پاس اُس سے لڑنے کے لئے آپہنچے تو پہلے اُس سے صلح کا پیغام کر ۔ تب یوں ہو گا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازے تیرے کر۔ ہوگا ا لئے کھول دے تو ساری خلق جو اُس شہر میں پائی جائے تیری خراج گزار ہو گی اور تیری