سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 139
سيرة ة النبي علي صلى الله 124 جلد 7 کے لئے تیار نہیں بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کا فیصلہ مانیں گے ۔ جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا ۔ لیکن اُس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔ یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کا مذہب سچا ہے وہ لوگ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے ۔ ایک شخص عمرو بن معدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے۔ اب یا مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔ یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے ۔ پھر اُن سے اُس نے کہا میں تم سے بری ہوں اور یہ کہہ کر قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔ جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہ تھے اُسے دیکھ لیا اور اُس سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں ۔ اس پر محمد بن مسلمہ نے فرمایا اللَّهُمَّ لَا تَحْرِ مُنِی إِقَالَةَ عَثَرَاتِ الْكِرَامِ 115 - یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی ! مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔ یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اُسے معاف کر دیں اس لئے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔ خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتا ر ہے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو سرزنش نہیں کی کہ کیوں اُس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اُس کے فعل کو سراہا۔ بنو قریظہ کے اپنے مقرر کردہ حکم یہ اوپر کے واقعات انفرادی تھے۔ بنو قریظہ بحیثیت قوم اپنی ضد پر قائم سعد کا فیصلہ تو رات کے مطابق تھا رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے سعد کے فیصلہ پر اصرار کیا۔ رسول کریم صلی اللہ