سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 120

سيرة ة النبي علي صلى الله 105 جلد 7 ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبردست قبائل کی ایک اتحاد عام کی بنیاد رکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے ۔ مکہ کے اردگرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے ۔ ان سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے ایک زبردست لشکر تیار کیا۔ یہ سنہ 5 ہجری آخر فروری کا واقعہ ہے 99 ۔ مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع - کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہو سکتا یقیناً چوبیس ہزار والا اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ بیس ہزار کا تو ضرور ہو گا ۔ مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا اس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی چڑھائی نہیں تھی ۔ مدینہ کے مرد جمع کر کے (جن میں بوڑھے، جوان اور بچے بھی شامل ہوں ) صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے اس کے برخلاف دشمن کی فوج ہیں اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے ۔ جوان اور لڑنے کے قابل تھے کیونکہ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں ۔ مگر جب دور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو اُس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں۔ پس یہ یقینی بات ہے کہ کفار کے لشکر میں میں ہزار یا پچیس ہزار جتنے بھی آدمی تھے وہ سب کے سب مضبوط ، جوان اور تجربہ کار سپاہی تھے۔ لیکن مدینہ کے گل مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہجوں کو ملا کر بمشکل تین ہزار ہوتی تھی ۔ ظاہر ہے کہ ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر مدینہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار سمجھنی چاہئے اور اگر دشمن کے لشکر کی تعداد ہیں ہزار سمجھی جائے تو مدینہ کے سپاہیوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار فرض کرنی چاہئے ۔ جب اس لشکر کے جمع ہونے اور حملہ کی تیاریوں کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہؓ کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہئے ۔