سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 119

سيرة ة النبي علي صلى الله 104 جلد 7 مقابلہ کیا تو اس کا ایمان اور بڑھ گیا اور اپنے باپ کے خلاف اُس کا غصہ بھی اُسی نسبت سے ترقی کر گیا۔ جب لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے آگے بڑھ کر اپنے لشکر تو باپ کا راستہ روک لیا اور کہا میں تم کو مدینہ کے اندر داخل نہیں ہونے دوں گا تا وقتیکہ تم وہ الفاظ واپس نہ لے لو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استعمال کئے ہیں۔ ہیں ۔ جس منہ سے یہ بات نکلی ہے کہ خدا کا نبی ذلیل ہے اور تم معزز ہوا سی منہ سے تم کو یہ بات کہنی ہو گی کہ خدا کا نبی معزز ہے اور تم ذلیل ہو۔ جب تک تم یہ نہ کہو میں تمہیں ہرگز آگے نہ جانے دوں گا ۔ عبداللہ بن ابی بن سلول حیران اور خوفزدہ ہو گیا اور کہنے لگا اے میرے بیٹے ! میں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں محمد معزز ہے اور میں ذلیل ہوں ۔ نوجوان عبداللہ نے اس پر اپنے باپ کو چھوڑ دیا 98 ۔ مدینہ پر سب عرب کی چڑھائی غزوہ خندق اس سے اس سے پہلے یہود کے دو قبیلوں کا ذکر کیا جا چکا ہے جن کو لڑائی، فساد قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے بنو نضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا تھا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔ خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اور ایک قلعہ بند شہر تھا۔ یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلانا شروع کیا۔ مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے ۔ اسی طرح غطفان نامی نجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت بڑی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔ اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سلیم اور بنواسد کے دو اور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنو سعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اُس کو بھی کفار مکہ کا ساتھ دینے کے لئے تیار کیا۔