مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 632

مسیحی انفاس — Page 80

۸۰ پھر ساتھی بھی نکل آتے ہیں۔ اور عورتوں بچوں کی شہادت بھی کافی ہو جاتی ہے۔ کچھ کچھ مال بھی برآمد ہو جاتا ہے۔ تو پھر اس کو بے حیائی سے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہاں میں نے چوری کی ہے۔ اسی طرح پر عیسائی مذہب کا حال ہوا ہے۔ صلیب پر مرنا یسوع کو کاذب کی اسی طرح کا ہوا مرنا ٹھہراتا ہے۔ لعنت دل کو گندہ کرتی اور خدا سے قطع تعلق کرتی ہے۔ اور اپنا قول کہ ہے۔ یونس کے کے معجزہ کے سوا اور کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا ۔ باقی معجزات کو رد کرتا تاور اور صلیب پر مرنے سے بچنے کو معجزہ ٹھراتا ہے۔ عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ انجیل میں کچھ حصہ الحاقی بھی ہے۔ یہ ساری باتیں مل ملا کر اس بات کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہیں جو یسوع کی خدائی کی دیوار کو جو ریت پر بنائی گئی تھی بالکل خاک سے ملا دیں اور سرینگر میں اس کی قبر نے صلیب کو بالکل توڑ ڈالا۔ مرہم عیسیٰ اس کے لئے بطور شاہد ہو گئی۔ غرض یہ ساری باتیں جب ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ ایک دانشمند سلیم الفطرت انسان کے سامنے پیش کی جاویں تو اسے صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔ اس لئے کفارہ سب پر جو عیسائیت کا اصل الاصول ہے۔ بالکل باطل ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۷۴، ۱۷۵ جو ترقی انہوں نے کرنی تھی وہ کر چکے پورے طور پر انسان کو خدا بنالیا۔ اگر انسان خدا بیست خدائل جائیں گے تو طاقت زیادہ ہوگی۔ ایسے بن سکتا ہے تو پیٹ سے کیوں ناراض ہیں بہت خدا مل جائیں گے تو طاقت زیادہ ہوگی۔ ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحه ۲۵۵ ۲۵۶ اے یہ ایسی موٹی بات ہے کہ معمولی عقل کا انسان بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ دیکھو اگر ایک بڑے آدمی کو معمولی اردلی سے مشابہت دی جاوے تو وہ چڑتا ہے یا نہیں؟ پھر کیا مسیح کی خدائی خدا تعالی کی خدا تعالیٰ میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ ایک عاجز انسان کو اس کی الوہیت کے عرش پر بٹھایا غیرت کے خلاف جاوے اور مخلوق تباہ ہواور وہ انسداد نہ کرے ؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسیح نے ہرگز ہے۔ ایسا دعوی نہیں کیا کہ میں خدا ہوں۔ اگر وہ ایسا دعوی کرے تو میں جہنم میں ڈال دوں ۔ ایک مقام پر یہ بھی فرمایا ہے کہ صحیح سے اس کا جواب طلب ہو گا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میر میری ماں کو خدا بنالو۔ تو حضرت مسیح اس مقام پر اس سے اپنی برتیت ظاہر کریں