مسیحی انفاس — Page 579
جس کا ہے نام قادر اکبر اس کی ہستی کی دی ہے پختہ خبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے سینہ کو خوب صاف کرتا ہے اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو ۔ اور ایک جاں تو چکا ہے تیر اکبر اس سے انکار ہو سکے کیونکر ہمیں دلستاں تلک لایا اس کے پانے سے یار کو پایا! بحر حکمت ہے وہ کلام تمام عشق حق کا پلا رہا ہے جام بات جب اس کی یاد آتی ہے یاد سے ساری خلق جاتی ہے سینہ میں نقش حق جماتی ہے دل سے غیر خدا اٹھاتی ہے وہ وہ درد مندوں کی ہے دوا وہی ایک ہم نے پایا پایا خود خود ہی وہی ایک ہے خدا سے خدا نما وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دلربا وہی ایک اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں! بات جب ہو کہ میرے پاس آئیں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورتِ جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان ہی نه ہی یوں ہی امتحان ہی براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول چیده خور بمعنی روشنی یا مینار ۵۷۹