مسیحی انفاس — Page 39
آپ نے کئی مقامات انجیل میں اپنی انسانی کمزوریوں کا اقرار کیا جیسا کہ جب قیامت کا ۲۵ پتہ ان سے پوچھا گیا تو آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر فرمائی اور کہا کہ بجز اللہ تعالیٰ کے قیامت کے سے تو نے اپنی کہاکہ جب بحراللہ وقت کو کوئی نہیں جانتا ۔ اب صاف ظاہر ہے کہ علم روح کی صفات میں سے ہے نہ جسم کی صفات میں انسانی کمزوریاں اور ہے۔ اگر ان میں اللہ تعالٰی کی روح تھی اور یہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھے تولا علمی کے اقرار کی کیا اعلی وغیرہ الوہیت وجہ ۔ کیا خدا تعالیٰ بعد علم کے نادان بھی ہو جایا کرتا ہے۔ پھر متی ۱۹ باب ۱۶ میں لکھا ہے کے معانی ہیں۔ ۔ دیکھو ایک نے آکے اسے (یعنی مسیح سے ) کہاے نیک استاد میں کونسانیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاوں ۔ اس نے اسے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ پھر متی ۲۰/۲۰ میں لکھا ہے کہ زیدی کے بیٹوں کی ماں نے اپنے بیٹوں کے حضرت مسیح کے دائیں بائیں بیٹھنے کی درخواست کی تو فرمایا اس میں میرا اختیار نہیں۔ اب فرمائیے قادر مطلق ہونا کہاں گیا۔ قادر مطلق بھی کبھی بے اختیار ہو جایا کرتا ہے اور جب اس قدر تعارض صفات میں ہو گیا کہ حضرات حواری تو آپ کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں اور آپ قادر مطلق ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ تو ان پیش کردہ پیش گوئیوں کی کیا عزت اور کیا وقعت باقی رہی جس کے لئے یہ پیش کی جاتی ہیں۔ وہی انکار کرتا ہے کہ میں قادر مطلق نہیں یہ خوب بات ہے۔ پھر متی ۲۶/۳۸ میں لکھا ہے جس متی کا ماحصل یہ ہے کہ مسیح مل یہ ہے کہ مسیح نے تمام رات اپنے بچنے کے لئے دعا کی اور نہائت غمگین اور دلگیر ہو کر اور رورو کر اللہ جل شانہ سے التماس کی کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے اور نہ صرف آپ بلکہ اپنے حواریوں سے بھی اپنے لئے دعا کرائی جیسے عام انسانوں میں جب کیسی پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اکثر مسجدوں وغیرہ میں اپنے لئے دعا کرایا کرتے ہیں لیکن لیکن تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ خواہ نخواہ قادر مطلق کی صفت ان پر تھوپی جاتی ہے اور ان کے کاموں کو اقتداری سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی وہ دعا منظور نہ ہوئی اور جو تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو ہی گیا۔ اب دیکھو اگر وہ قادر مطلق ہوتے تو چاہئے تھا کہ یہ اقتدار اور یہ قدرت کاملہ ان کو اپنے نفس کے لئے کام آتا۔ جب اپنے نفس کے لئے کام نہ آیا تو غیروں کو ان سے توقع رکھنا ایک طمع خام ہے ۔ اب۔ صاف ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح اپنے اقوال کے ذریعہ اور اپنے افعال کے ذریعہ سے اپنے تئیں عاجز ٹھہراتے ہیں اور خدائی کی کوئی بھی صفت ان میں