مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 632

مسیحی انفاس — Page 36

۳۶ آسمانوں پر کیونکر موجود ہو سکتا ہے تا ان کا قیوم ہو۔ معیار المذاہب۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۹۱ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ کوئی صفت مفعول کے صیغہ میں نہیں خدا تعالی کی کوئی صفت ہے۔ قدوس تو ہے مگر معصوم نہیں ہے۔ کیونکہ معصوم کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو من اول کے صیغے میں بچانے والا کوئی اور ہے۔ حالانکہ اللہ تعالٰی تو اپنی ذات ہی میں بے عیب پاک خدا ہے اور نہیں۔ ۲۰ وحدہ لا شریک اکیلا خدا ہے۔ اس کو بچانے والا کون ہو سکتا ہے۔ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۱۴۰ عیسائی لوگ یسوع کی تعریف میں کہا کرتے ہیں کہ وہ بے گناہ تھا۔ حالانکہ بے گناہ ہے گناہ ہوا کوئی خوبی ہونا کوئی خوبی نہیں۔ خوبی تو اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلیٰ درجہ کے تعلقات ی ها را خواب ہوں اور انسان قرب الہی کو حاصل کرنے۔ چونکہ خداتعالی جانتا تھا کہ یسوع کی لوگ حد دہ سے کا سے زیادہ ناجائز عزت کریں گے۔ اس واسطے پہلے ہی سے اس کا وہ حال ہوا جس سے ہر نہیں۔ ۲۱ بات میں اس کا معجز اور کمزور انسان ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۴۱۸ عیسائیوں کو ملزم کرنے کے واسطے اس سے بڑھ کر کوئی تیز ہتھیار نہیں ہے۔ ان سے پہلا سوال یہی ہونا چاہئے کہ کیا وہ ناطق خدا ہے یا غیر ناطق ؟ اگر غیر ناطق ہے تو اس ناطق خا ہیں یا غیر کا گونگا ہونا ہی اس کے ابطال کی دلیل ہے۔ لیکن اگر وہ : ہے۔ لیکن اگر وہ ناطق ہے تو پھر اس کو ہمارے ناطق ؟ مقابل پر بلا کر دکھاؤ اور اس سے وہ بولیاں بلواؤ جن سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ انسان کی مقدرت اور طاقت سے باہر ہیں یعنی عظیم الشان پیش گوئیاں اور آئندہ کی خبریں۔ مگر وہ پیش گوئیاں اس قسم کی نہیں ہونی چاہئیں جو یسوع نے خود اپنی زندگی میں کی جو خود اپنی کی تھیں کہ مرغ بانگ دے گا۔ یالڑائیاں ہوں گی ۔ قحط پڑیں گے بلکہ ایسی پیش گوئیاں جن میں قیافہ اور فراست کو دخل نہ ہو بلکہ وہ انسانی طاقت اور فراست سے بالا تر ہوں ۔ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ کوئی پادری یہ کہنے کی طاقت نہیں رکھ سکتا۔ کہ خدائے قادر کے مقابلہ میں ایک عاجز اور ضعیف انسان یسوع کی اقتداری پیش گوئیاں پیش کر سکے۔ غرض