مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 632

مسیحی انفاس — Page 511

۵۱۱ شائع کیئے۔ اب ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جھوٹے مقدمات کئے اور قتل کے الزام دیئے۔ لملفوظات جلد ۲ صفحه ۴۳ ۱۳۵۸ لکھا تو انجیل میں یہی ہے کہ میری پیروی سے تم پہاڑ کو بھی ہلا سکو گے مگر اب وہ جوتی بھی سیدھی نہیں کر سکتے۔ لکھا ہے کہ میرے جیسے معجزات دکھاؤ گے مگر کوئی کچھ نہیں دکھا سکتا۔ لکھا ہے کہ زہریں کھالو گے تو اثر نہ کریں گی مگر اب سانپ ڈستے اور کتے کاٹتے ہیں اور وہ ان زہروں سے ہلاک ہوتے ہیں اور کوئی نمونہ وہ دعا کا نہیں دکھا سکتے۔ رہائی کوئی نمونہ دعا کا نہیں دکھا سکتے ان کا وہ نمونہ دعا کی قبولیت کا نہ دکھا سکنا ایک سخت حربہ اور حجت ہے ۔ نمونہ دعا کا اور عیسائی مذہب کے ابطال پر کہ اس میں زندگی کی روح اور تاثیر نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کے کا کہ انہوں نے نبی کا طریق چھوڑ دیا۔ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۲۰ ایسا اقتداری معجزہ بہ نسبت دوسرے الہی کاموں کے بلا واسطہ اللہ جل شانہ سے ظہور ۳۵۹ میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہو گا تا سیر سری نگاہ والوں آتے ہی ضروری اور اپنے اندر موجود رکھتاہو گا امیر سری کی نظر میں تشابہ فی الخلق واقع نہ ہو۔ اسی وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام کا عصا باوجود مجرے میں نقص اور کے کئی عصا کا عصا رہا۔ اور حضرت مسیح علیہ معجزات میں اس کے کئی دفعہ سانپ بنا لیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی کمزوری کا پایا جاتاتا کہ چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی متشابہ فی العلق نہ ہو مٹی ہی تھے۔ اور کہیں خدا تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں۔ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ ہوگیا آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۸ اگر قرآن کریم کی کسی قرائت میں اس موقعہ پر فیکون حیا کالفظ موجود ہے یا تاریخی طور پر ثابت ہے کہ در حقیقت وہ زندہ ہو جاتے تھے اور انڈے بھی دیتے تھے اور اب تک ان کی نسل (سے) بھی بہت سے پرندے موجود ہیں تو پھر ان کا ثبوت دینا چاہئے اللہ تعالٰی قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تمام دنیا چاہے کہ ایک مکھی بنا سکے تو نہیں بن سکتی کیونکہ علق طیور کی حقیقت اس سے تشابہ فی خلق اللہ لازم آتا ہے ۔ اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے