مسیحی انفاس — Page 508
۵۰۸ اٹھا سکتا ہے میں سے ایک مرتد ہو گیا۔ یہودیوں کا بادشاہ ہونے کا دعوی بے بنیاد ثابت ہوا اور پھر تاویل کی گئی کہ میری مراد اس سے آسمانی بادشاہت ہے۔ اور یہ بھی پیش گوئی حضرت کہ مسیح نے کی تھی کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے کہ میں پھر دنیا میں آؤں گا۔ مگر یہ پیش گوئی بھی صریح طور پر جھوٹی ثابت ہوئی ۔ اور پھر پہلے نبیوں نے مسیح کی نسبت یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ نہیں آئے گا جب تک کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آجائے دوباره مگر الیاس نہ آیا۔ اور یسوع ابن مریم نے یونہی مسیح موعود ہونے کا دعوی کر دیا حالانکہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آیا۔ اور جب پوچھا گیا تو الیاس موعود کی جگہ یوحنا یعنی بھی نبی کو الیاس شہر ا دیا ۔ تاکسی طرح مسیح موعود بن جائے حالانکہ پہلے نبیوں نے آنے والے الیاس کی نسبت ہر گز یہ تاویل نہیں کی اور خود یو حتا نبی نے الیاس سے مراد وہی الیاس مراد رکھا جو دنیا سے گزر گیا تھا۔ مگر مسیح نے یعنی یسوع بن مریم نے اپنی بات بنانے کے لئے پہلے نبیوں اور تمام راست بازوں کے اجماع کے بر خلاف الیاس آنے والے سے مراد یوحنا اپنے مرشد کو قرار دے دیا اور عجیب یہ کہ یوحنا اپنے الیاس ہونے سے خود منکر ہے مگر تاہم یسوع ابن مریم نے زبر دستی اس کو الیاس شہر ا ہی دیا۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اب تک کہتے ہیں کہ اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا صرف مکر و فریب تھا۔ اسی لئے حضرت مسیح کو کہنا پڑا کہ اس زمانہ کے حرام کار مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں انہیں کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ در حقیقت معجزات کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو مگر وہ شخص جو شب کو ر ہو جو رات کو کچھ دیکھ نہیں سکتا اس کے لئے یہ معجزات سے فائدہ کون چاندنی کچھ مفید نہیں۔ ایسا تو ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس دنیا کے معجزات اسی رنگ سے ظاہر ہوں جس رنگ سے قیامت میں ظہور ہو گا۔ مثلاً دو تین سو مردے زندہ ہو جائیں اور بہشتی پھل ان کے پاس ہوں اور دوزخ کی آگ کی چنگاریاں بھی پاس رکھتے ہوں اور شہر شہر دورہ کریں اور ایک نبی کی سچائی پر جو قو سچائی پر جو قوم کے درمیان ہو گا ہو گواہی دیں اور لوگ ان کو شناخت کر لیں کہ در حقیقت یہ لوگ مر چکے تھے اور اب زندہ ہو گئے ے اور ہو ہیں اور وعظوں اور لیکچروں سے شور مچادی کہ در حقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعوی کرتا ہے سچا ہے۔ سو یا د رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے