مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 632

مسیحی انفاس — Page 499

۴۹۹ من سچے نبی کے لئے قائم ہوتی ہے وہ حضرت مسیح کے لئے قائم نہیں ہو سکی ۔ اگر قرآن ان کی نبوت کا بیان نہ کرتا تو ہمارے لئے کوئی بھی راہ کھلی نہیں تھی کہ ہم ان کو سچے نبیوں کے سلسلہ میں داخل کر سکیں۔ کیا جس کی یہ تعلیم ہو کہ میں ہی خدا ہوں اور خدا کا بیٹا اور بندگی اور فرمانبرداری سے آزاد اور جس کی عقل اور معرفت صرف اس قدر ہو کہ میری خود کشی سے لوگ گناہ سے نجات پا جائیں گے۔ ایسے آدمی کو ایک دم کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ کہ وہ دانا اور راہ راست پر ہے۔ مگر الحمد للہ کہ قرآنی تعلیم نے ہم پر یہ کھول دیا کہ ابن مریم پر یہ سب جھوٹے الزام ہیں۔ انجیل میں تثلیث کا نام و نشان نہیں ۔ ایک عام محاوره لفظ ابن اللہ کا جو پہلی کتابوں میں آدم سے لے کر اخیر تک ہزار ہا لوگوں پر بولا گیا تھا وہی عام لفظ حضرت مسیح کے حق میں انجیل میں آگیا۔ پھر بات کا بتنگڑ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح اسی لفظ کی بنیاد پر خدا بھی بن گئے ۔ حالانکہ نہ کبھی مسیح نے خدائی کا دعوی کیا اور نہ کبھی خود کشی کی خواہش ظاہر کی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا کرتا تو ر است بازوں کے دفتر سے اس کا نام کاٹا جاتا۔ یہ بھی مشکل سے یقین ہوتا ہے کہ ایسے شرمناک جھوٹ کی بنیاد حواریوں کے خیالات کی برگشتگی نے پیدا کی ہو کیونکہ گوان کی نسبت جیسا کہ انجیل میں بیان کیا گیا ہے یہ صحیح بھی ہو کہ وہ موٹی عقل کے آدمی اور جلد تر جده غلطی کھانے والے تھے۔ لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ وہ ایک نبی کے صحبت یافتہ ہو کر ایسے بیہودہ خیالات کی جنس کو اپنی ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔ مگر انجیل کے کواپنی پر لئے حواشی پر نظر کرنے سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ساری چالبازی حضرت پولس کی ہے ۔ جس نے پولیٹکل چالبازوں کی طرح عمیق مکروں سے کام لیا ہے ۔ غرض جس ابن مریم کی قرآن نے ہم کو خبر دی ہے وہ اسی ازلی ابدی ہدایت کا پابند تھا جو ابتداء سے بنی آدم کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ لہذا اس کی نبوت کے لئے قرآنی ثبوت کافی ہے گوانجیل کی رو سے کتنے ہی شکوک و شبہات اس کی نبوت کے بارے: کے بارے میں پیدا ہوں۔ نور القرآن حصہ اول - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۳۶۹ تا ۳۷۲ ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے احسانات ہیں کہ آپ نے ہر طرح کے آنحضرت کے مبیع پر التزامات سے ان کو بری کیا جو کہ یہودی لوگ ان پر لگاتے تھے۔ ورنہ وہ تو بچارے جس الامارات