مسیحی انفاس — Page 494
۴۹۴ دنیا سے جانے کے لئے ہمارے سید و مولی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ دنیا سے جانے کے وعلى کے نے دنیاکی پندرہ لیے دعالی الحقني بالرفيق الاعلیٰ مگر آپ کے خدا صاحب نے دنیا کی چند روزہ زندگی سے ایسا پیار کیا کہ ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعائیں کرتا رہا۔ بلکہ سولی پر بھی رضا اور تسلیم کا کلمہ منہ سے نہ نکلا۔ اور اگر نکلا تو یہ نکلا کہ ایلی ایلی نما سبقتی ۔ اے دعا کے بدہ میں میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا اور خدا نے کچھ جواب نہ دیا کہ موازنه اس نے ترک کر دیا۔ مگر بات تو ظاہر ہے کہ خدائی کا دعوی کیا تکبر کیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخر وقت میں مخیر کیا کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر ۳۲۳ تصویر يسوع چاہو تو میری طرف آو۔ آپ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہر رخصت ہو گئی۔ یہی تھا بالرفيق الأعلیٰ یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں ۔ اب دونوں کلموں کو وزن کرو۔ آپ کے خدا صاحب نے نہ فقط ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعا کی ۔ بلکہ صلیب پر بھی چلا چلا کر روئے کہ مجھے موت سے بچا ہے۔ مگر کون سنتا تھا ۔ لیکن ہمارے مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے لئے ہر گز دعا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ مختار کیا کہ اگر زندگی کی خواہش ہے تو یہی ہو گا۔ مگر آپ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا۔ کیا یہ خدا ہے جس پر بھروسا ہے نور القرآن ۔ حصہ دوم ۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۰، ۴۱۱ مسیح علیہ السلام کی زندگی پر نظر کرو۔ ساری رات خود دعا کرتے رہے۔ دوستوں سے کراتے رہے۔ آخر شکوہ پر اتر آئے۔ اور ایلی ایلی لما سبقتنی بھی کہہ دیا۔ یعنی اے میرے خدا۔ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اب ایسی حسرت بھری حالت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مامور من اللہ ہے۔ جو نقشہ پادریوں نے مسیح کی آخری حالت کا جماکر دکھایا ہے وہ تو بالکل مایوسی بخشتا ہے ۔ لائیں تو اتنی تھیں کہ خدا کی پناہ اور کام کچھ بھی نہ کیا ساری عمر میں کل ایک سو بیس آدمی تیار کئے اور وہ بھی ایسے پست خیال اور کم فہم جو خدا کی بادشاہت کی باتوں کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے۔ ا دسمجھ ہی نہ سکتے تھے۔ اور سب سے بڑا مصاحب جس کی بابت یہ فتولی تھا کہ جو زمین پر کرے آسمان پر ہوتا ہے اور بہشت کی کنجیاں جس کے ہاتھ میں تھیں ۔ اسی نے سب سے پہلے لعنت کی ۔ اور وہ جو امین اور خزانچی بنایا ہوا تھا۔ جس کو چھاتی پر