مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 632

مسیحی انفاس — Page 483

۴۸۳ آسمان پر چڑہا ہار رکھا ہے۔ بیچ بیچ گرفتار ہو جاتا ۔ چالان کیا جانا اور اور عجیب ہیبت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جاتا ۔ افسوس یہ عقل کی ترقی کا زمانہ اور ایسے بیہودہ عقائد ۔ شرم ! شرم ! شرم ! اگر یہ کہو کہ کسی کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میں جناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا ت میں ایک ادنی خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔ اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح بخاری کی عبارت لکھتا ہوں ۔ ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے۔ وقد كنت أعلم انه خارج ولم اكن اظن انه منكم فلو انى اعلم اني اخلص اليه لتجشمت لقاءها ولو كنت عندها لغسلت عن قدميه (دیکھو ص ٢) یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے۔ مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہی (اے اہل عرب ) پیدا ہو گا۔ پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا ۔ کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو۔ اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا۔ اب اگر کچھ غیرت اور شرم ہے تو سیح کے لئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لے لو۔ اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل سے ہی بلکہ پیش کرو۔ اگر چہ کوئی نجاست میں پڑا ہو اور ق ہی پیش کر دو ۔ اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹا سا نواب ہی پیش کر دو۔ اور یاد رکھو کہ ہر گز پیش نہ کر سکو گے۔ پس یہ عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہ آپ ہی بات کو اٹھا کر پھر آپ ہی ملزم ہو گئے۔ بات اٹھا آپسی نور القرآن - حصہ دوم - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۸۴ تا ۷ ۳۸ ہمارے سید و مولی جناب مقدس نبوی کی تعلیم کا اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس توریہ کو آپ کا یوں شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کر تا رہا بہ آنحضرت حضرت میں کا رویہ اور یسوع مارکی صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے۔ تا مفہوم کیا تا مفہوم کلام کا آنحضرت کی شجاعت اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو۔ مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے صورت میں مشابہ ہو کر کیا کہیں اور کیا میہ یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے ۔ جو شخص خدائی کا دعوی کرے وہ وہ نو تو شیر لو