مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 632

مسیحی انفاس — Page 32

۳۲ ۱۳ یہاں تک کہ قیامت کی بھی خبر نہیں کہ کب آئیگی۔ مگر پھر بھی نصرانیوں کے خوش عقیدہ کی رو سے عالم الغیب ہے ۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے اور نیز صحف انبیاء کی گواہی سے ایک مسکین بندہ ۔ ہے۔ مگر ر پھر پھر بھی حضرات مسیحیوں کی نظر میں خدا ہے۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے رسے نیک اور بے گناہ نہیں ہے مگر پھر بھی، ہے مگر پھر بھی عیسائیوں کے خیال میں نیک اور بے گناہ ہے۔ غرض عیسائی قوم بھی ایک عجیب قوم ہے جنہوں نے ضدین کو جمع کر دکھایا اور تناقض کو جائز سمجھ لیا۔ اور گوان کے اعتقاد کے قائم ہونے سے مسیح کا دروغ گو ہونا لازم آیا۔ مگر انہوں نے اپنے اعتقاد کو نہ چھوڑا ۔ ایک ذلیل اور عاجز بندہ کو رب العالمین قرار دیا۔ قرار دیا۔ اور رب العالمین پر ہر طرح کی ذلت اور د اور موت اور درد اور دکھ اور تحجبتم اور حلول اور تغیر اور تبدل اور حدوث اور تولد کوروارکھا ہے۔ نادانوں نے خدا کو بھی ایک کھیل بنا لیا ہے ۔ عیسائیوں پر کیا حصر ہے ان سے پہلے کئی عاجز بندے خدا قرار دئے گئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے رام چندر خدا ہے۔ کوئی کہتا ہے نہیں کرشن کی خدائی اس سے قوی تر ہے۔ اسی طرح کوئی بدھ کو کوئی کسی کو کوئی کسی کو خدا ٹھراتا ہے۔ ایسا ہی اس آخری زمانہ کے ان سادہ لوحوں نے بھی پہلے مشرکوں کی ریس کر کے ابن مریم کو خدا اور خدا کا فرزند ٹھہرالیا۔ غرض عیسائی لوگ نہ خداوند حقیقی کو رب العالمین سمجھتے ہیں نہ اسے رحمان اور رحیم خیال کرتے ہیں اور نہ جزا سزا اس کے ہاتھ میں یقین رکھتے ہیں، بلکہ ان کے گمان میں حقیقی خدا کے وجود سے زمین اور آسمان خالی پڑا ہوا ہے اور جو کچھ ہے ابن مریم ہی ہے۔ اگر رب۔ اگر رب ہے تو وہی ہے ۔ اگر رحمان ہے تو ۔ ہے تو وہی ہے۔ اگر رحیم ہے تو وہی ہے ۔ اگر مالک یوم الدین ہے تو وہی ہے۔ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۶۷ تا ۴۶۹ - بقیه حاشیه ۱۱ ایسا ہی عیسائی عقیدہ کی رو سے خدا تعالیٰ عالم الغیب نہیں ہے۔ کیونکہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ کو خدا قرار دیا گیا ہے اور وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ میں جو خدا کا بیٹا حضرت مسیح عالم الغیب ہوں۔ مجھے قیامت کا علم نہیں۔ پس اس سے بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ خدا کو ہوں۔ مجھے امت علم سے جواس کے کا نہیں۔ قیامت کا علم نہیں کہ کب آئیگی۔ چشمہ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۱