مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 632

مسیحی انفاس — Page 477

۴۷۷ کبھی معصوم نہیں بن سکتا۔ بلکہ معصوم بنتا خدا تعالی کا کام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کا بہت بڑا فضل تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا اور اصل یہ ہے کہ انسان بچتا بھی فضل سے ہی ہے۔ پس جس شخص پر خدا تعالیٰ کا فضل عظیم ہو۔ اور جس کو کل دنیا کے لئے مبعوث کیا گیا ہو اور جو رحمة للعالمین ہو کر آیا ہو اس کی عصمت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے ۔ عظیم الشان بلندی پر جو شخص کھڑا ۔ انا ہے ایک نیچے کھڑا ہوا اس سے مقابلہ کیا کر سکتا ہے۔ مسیح کی ہمت اور دعوت صرف بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں تک محدود ہے۔ پھر اس کی عصمت کا درجہ بھی اس حد تک کا ہونا چاہئے۔ لیکن جو شخص کل عالم کی نجات اور رستگاری کے واسطے آیا ہے ۔ ایک دانشمند خود سوچ سکتا ہے کہ اس کی تعلیم کیسی عالمگیر صداقتوں پر مشتمل ہوگی اور اسی لئے وہ اپنی تعلیم اور تبلیغ میں کس درجہ کا معصوم ہو گا۔ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۳۶۴، ۳۶۵ ۳۲۸ قرآن شریف اور احادیث میں جو حضرت عیسی کے نیک اور معصوم ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسرا کوئی نیک یا معصوم نہیں۔ بلکہ قرآن شریف اور قرآن میں مسیح کی ا یہ نہیں کہ دوسرا یا حدیث نے ضرور تا یہود کے منہ کو بند کرنے کے لئے یہ فقرے بولے ہیں کہ یہود نعوذ مصونیت کے ذکری باللہ مریم کو زنا کار عورت اور حضرت عیسی کو ولد الزنا کہتے تھے۔ اس لئے قرآن شریف نے ان کا ذب کیا ہے کہ وہ ایسا کہنے سے باز آئیں۔ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۲۷۱ وجود مسیح نے تو امام حسین علیہ السلام جتنا حوصلہ بھی نہ دکھلایا کیونکہ ان کو مفتر کی گنجائش نے تو مام علیہ جناحوصلہ بھی نہ کیونکہ کو مشرکی تھی۔ اگر چاہتے تو جاسکتے تھے مگر جگہ سے نہ ہلے اور سینہ سپر ہو کر جان دی اور مسیح کو تو مفر امام حسین اور مسیح ہی کوئی نہ تھا۔ یہودیوں کی قید میں تھے حوصلہ کیا دکھلاتے ۔ ٣٣٠ ملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۰۷ ۱۰ جنوری ۱۸۹۶ء پرچہ نور افشاں میں کسی نادان عیسائی نے