مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 632

مسیحی انفاس — Page 475

۴۷۵ جو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اس کا سبب تلوار نہیں تھی بلکہ وہ اس تیرہ سال کی آہ وزاری اور دعا اور تضرع کا اثر تھا۔ دعا اور تضرع کا اثر تھا۔ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۱ ، ۱۰۲ حاشیه نیز دیکھیں ۔ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحہ ۱۵۷ ، ۲۵۸ و - ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحہ ۱۰۷ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ میں حواریوں کو پیش کرتے ہوئے شرم آجاتی ہے۔ حواریوں کی تعریف میں ساری انجیل میں ایک بھی فقرہ ایسا نظر نہ آئے ۳۲۵ گا۔ کہ انہوں نے میری راہ میں جان دے دی۔ بلکہ بر خلاف اس کے ان کے اعمال جان فدا کرنے کے بارہ ساری ایسے ثابت ہوں گے جس سے معلوم ہو کہ وہ حد درجہ کے غیر مستقل مزاج، غدار اور ملات ہوں گے جس سے معلوم ہو کہ وہ درجہ کے غیر مستقل مزاج غدار اور بند میں ادا الحمل میں حواریوں کی بے وفا اور دنیا پرست تھے اور صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی راہ میں وہ تعریف میں ایک بھی صدق دکھلایا کہ انہیں کی آواز فقرہ نہیں رضي الله عنهم ورضوا عَنْهُ آگئی ۔ یہ اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جو صحابہ کو حاصل ہوا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے ۔ اس مقام کی خوبیاں اور کمالات الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جاتا ہر شخص کا کام نہیں بلکہ یہ توکل تبتل اور رضا و تسلیم کا اعلیٰ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو کسی قسم کا شکوہ شکایت اپنے مولی سے نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے راضی ہونا یہ موقوف ہے بندے کے کمال صدق و وفاداری اور اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اور طہارت اور کمال اطاعت پر ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے نے معرفت اور سلوک کے تمام مدارج طے کر لئے تھے۔ اس کا نمونہ حواریوں میں اگر تلاش کریں تو ہر گز نہیں مل سکتا۔ پس نرے سلب امراض پر خوش ہو جاتا یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے اور روحانی کمالات کا شیدائی ان باتوں پر خوش نہیں ہو سکتا اس لئے میں تمہارے لئے نہیں پسند کرتا ہوں کہ تم اپنے دل کو پاک کرو کہ موٹی کریم تم سے راضی ہو جاوے اور تم اس سے راضی ہو جاو۔ پھر وہ تمہارے جسم میں تمہاری باتوں میں ایسی برکت رکھ دے گا۔ جو سلب امراض والے بھی انہیں دیکھ کر حیران اور شرمندہ ہوں گے۔ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۱۳۹ ، ۱۴۰