مسیحی انفاس — Page 470
۴۷۰ ۳۲۲ معلوم ہو جائے گا کہ کسی تعلیم نے قوت ایمانی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اس تعلیم کی محبت سے اور رسول کے عشق سے اپنے وطنوں کو بڑی خوشی سے چھوڑ دیا۔ اپنے آراموں کو بڑی راحت کے ساتھ ترک کر دیا۔ اپنی جانوں کو فدا کر تھ ترک کر دیا۔ اپنی جانوں کو دیا۔ اپنے خونوں کو اس راہ میں بہا دیا اور کسی تعلیم کا یہ حال ہے۔ اس رسول کو یعنی حضرت مسیح کو جب یہودیوں نے پکڑا تو حواری ایک منٹ کے لئے بھی نہ ٹھہر سکے اپنی اپنی راہ لی اور بعض نے تمھیں روپیہ لے کر اپنے نبی مقبول کو بیچ دیا۔ اور بعض نے تین دفعہ انکار کیا اور انجیل کھول کر دیکھ لو کہ اس نے لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہا کہ اس شخص کو نہیں جانتا۔ پھر جب کہ ابتدا سے زمانہ کا یہ حال تھا۔ یہاں تک کہ تجہیز و تکفین تک میں بھی شریک نہ ہوئے۔ تو پھر اس زمانہ کا کیا حال ہو گا جب کہ حضرت مسیح آن میں موجود نہ رہے۔ مجھے زیادہ لکھانے کی ضرورت نہیں۔ اس بارہ میں بڑے بڑے علماء عیسائیوں نے اسی زمانہ میں گواہی دی ہے کہ حواریوں کی حالت صحابہ کی حالت سے جس وقت ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمیں شرمندگی کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حواریوں کی حالت ان کے مقابل پر ایک قابل شرم عمل تھا۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۹ ، ۲۹۰ خدا نے پانی کو پیاس بجھانے کے لئے پیدا کیا اس لئے آگ اس کے قائم مقام معرفت کے لحاظ سے نہیں ہو سکتی ۔ ۔ انسانی سرشت بہت سی شاخوں ں پر پر مشتمل مشتمل ہے۔ ہے۔ اور اور کئی کئی مختلف مختلف قوتیں قوتیں موازنه خدا نے اس میں رکھتی ہیں۔ لیکن انجیل نے صرف ایک ہی قوت عفو اور در گذر پر اور زور دیا ہے ۔ گویا انسانی درخت کی صدہا شاخوں میں سے صرف ایک شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے۔ پس اس سے حضرت عیسی کی معرفت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ کہاں تک ہے۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت انسانی فطرت کے انتہا تک پہنچی ہوئی ہے ۔ اس لئے قرآن شریف کامل نازل ہوا۔ اور یہ کچھ برا ہوا ماننے کی بات نہیں ۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ یعنی بعض نبیوں کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔